سابق انگلش فاسٹ باؤلر اسٹیورٹ براڈ نے کہا ہے کہ زخمی انگلی کے باعث ہیڈنگلے سے باہر رہنے والے بابر اعظم کو لارڈز میں ہونے والے دوسرے ٹیسٹ کے لیے پاکستان کی پہلی گیارہ میں واپس لانا ضروری ہے، کیونکہ ٹیم ان کے بغیر کمزور دکھائی دی۔
اسٹیورٹ براڈ نے پروفیشنل کاؤنٹی کلب (پی سی سی) سلیکٹ الیون کے خلاف بیکنہم میں تین روزہ پریکٹس میچ کے دوران بابر اعظم کو لگنے والے فنگر انجری کے باعث وہ ہیڈنگلے کا پہلا ٹیسٹ نہیں کھیل پائے، جس میں پاکستان کو ایک اننگز اور 103 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
براڈ نے سابق انگلش کپتان جوس بٹلر کے ساتھ ایک پوڈ کاسٹ میں بتایا کہ بابر کی تجربہ کاری اور صلاحیت پاکستان کی بیٹنگ میں بے حد ضروری ہے اور وہ یقین رکھتے ہیں کہ بابر لارڈز میں دوبارہ کھیلیں گے۔ “مجھے یقین ہے وہ لارڈز میں واپس آئیں گے۔ انہیں واپس لانا ہوگا۔ بیٹنگ لائن اپ کافی نازک دکھائی دیتی ہے، اور وہ ان کے سب سے بہترین کھلاڑی ہیں،” براڈ نے کہا۔
براڈ نے ہیڈنگلے سے قبل بابر کے ایک ہلکے مزاحیہ واقعے کا بھی ذکر کیا، جب بابر انجری کے باعث میچ سے باہر قرار دیے جانے کے باوجود ٹاس سے چند لمحے قبل پیلے کپڑوں میں میدان میں نمودار ہوئے تو گونج پیدا ہو گئی تھی۔ براڈ کے مطابق بابر “پورے کٹس کے ساتھ سیڑھیوں سے اتر کر” ٹاس کے وقت سامنے آئے، جس کی وجہ سے کچھ لوگوں نے سوچا وہ کھیل رہے ہیں، حالانکہ وہ صرف کپتان کی ٹرافی کے ساتھ تصویر کے لیے باہر آئے تھے۔
براڈ نے کہا کہ وہ سیڑھیوں کے نیچے کھڑے تھے اور بابر کے ساتھ ایک مضحکہ خیز، جدید طرز کا مصافحہ ہوا۔ “ہم نے ایک عجیب مصافحہ کیا، جیسے جدید مصافحہ کہتے ہیں۔”
ہیڈنگلے میں پاکستان کی بھاری شکست کے بعد براڈ کا خیال ہے کہ بابر کی واپسی ٹیم کی بیٹنگ کو مضبوط کرے گی اور لارڈز میں بہتر کارکردگی کے امکانات بڑھیں گے۔




