لارڈز، لندن — دوسرے ٹیسٹ کے افتتاحی روز پاکستان کے دائیں ہاتھ کے پیسر محمد عباس نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں 900 وکٹوں کا اہم سنگِ میل عبور کیا اور بعد ازاں ایک اور وکٹ کے ساتھ مجموعی طور پر 901 وکٹیں کر لیں۔ یہ اعزاز انھوں نے اپنے 222ویں فرسٹ کلاس میچ میں حاصل کیا جب انہوں نے ایمیلیو گائے، بین ڈکیٹ اور انگلینڈ کپتان جو رُوٹ کو پویلین واپس بھیجا، جس سے میزبان ٹیم 13 اوورز میں 57/3 پر محدود ہو گئی۔
پاکستان کے تجربہ کار پیسر محمد عباس نے لارڈز کے تاریخی میدان پر اپنے فرسٹ کلاس کیریئر کا اہم سنگِ میل عبور کر لیا۔ دوسرے ٹیسٹ کے پہلے روز عباس نے ابتدائی اوورز میں جارحانہ انگلش اوپنرز کو قابو میں رکھتے ہوئے پہلے ایمیلیو گائے کو آوٹ کیا جو 8 رنز بنا کر پویلین لوٹے۔ اگلے اوورز میں بین ڈکیٹ 17 رنز پر عباس کی گیند پر بولڈ یا ایل بی ڈبلیو ہوئے، اور اس وکٹ کے ساتھ عباس نے اپنے فرسٹ کلاس کیریئر میں 900 کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے کا ریکارڈ مکمل کیا۔
کچھ دیر بعد عباس نے انگلینڈ کے کپتان جو رُوٹ کو ایل بی ڈبلیو کر کے اپنی اسی اننگز میں تیسری وکٹ حاصل کی، جس کے بعد ان کی مجموعی وکٹیں 901 تک پہنچ گئیں۔ اسی طرح پہلے 13 اوورز کے بعد انگلینڈ 57/3 کی پوزیشن پر تھا اور جارڈن کاکس اور ہیری بروک کریز پر موجود تھے جب کھیل دوبارہ شروع ہوا۔
محمد عباس کا فرسٹ کلاس بولنگ ایوریج اس وقت 20.43 برقرار ہے اور انہوں نے اپنے کیریئر میں 57 مرتبہ پانچ وکٹیں اور 15 مرتبہ کسی میچ میں مجموعی طور پر دس وکٹیں حاصل کی ہیں۔ ان کارکردگیوں نے انہیں 21ویں صدی کے سب سے زیادہ وکٹ لینے والے بولرز میں نمایاں مقام دلایا؛ وہ اس فہرست میں پانچویں نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔
اس درجہ بندی میں انگلش لیجنڈ جیمز اینڈرسن سرِفہرست ہیں جن کے نام 1,181 وکٹیں درج ہیں، اس کے بعد جنوبی افریقہ کے سائمن ہارمر کے 1,056، سری لنکا کے مالِندا پشپاکمارا کے 1,010 اور انگلینڈ کے ٹم مرٹاگھ کے 959 وکٹیں ہیں۔ محمد عباس کے اب 901 وکٹیں ریکارڈ کی جا چکی ہیں اور وہ اپنی فارم جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
میچ کے ابتدائی لمحات میں عباس کی یہ وکٹیں پاکستان کو بیٹنگ لائن کے خلاف ابتدائی دباؤ دینے میں کامیاب رہیں، اور میچ کے دوران ان کی کارکردگی پر خاصی توجہ رہی۔




