25 اگست 1941 کی صبح برطانوی اور سوویت افواج نے شمال اور جنوب سے ایران میں داخل ہو کر چھ دن کے اندر بڑے شہروں اور مواصلاتی راستوں پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ اس حملے کا سبب ایران کی غیر جانبداری، خلیج تک رسائی اور تیل و سپلائی لائنز کی حفاظت تھا۔
دوسری عالمی جنگ کے دوران 1941 کے موسمِ گرما میں ایران ایک اچانک اور فیصلہ کن محوری حیثیت اختیار کر گیا۔ 22 جون 1941 کو جرمنی کے حملے کے بعد سوویت یونین جنگ میں برطانیہ کا اتحادی بن گیا اور ایران اس لیے اہم ہو گیا کہ وہ سوویت یونین کی جنوبی سرحد کے قریب واقع تھا اور خلیج تک رسائی فراہم کرتا تھا۔
25 اگست 1941 کی صبح برطانوی اور سوویت افواج نے بالترتیب جنوب اور شمال سے ایران میں داخل ہو کر چند روز میں کلیدی بندرگاہیں، ریلوے اور تیل کی تنصیبات اپنے کنٹرول میں لے لیں۔ اس کارروائی کو مشرق وسطیٰ میں دوسری عالمی جنگ کے حساس ترین واقعات میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ اس نے ریڈ آرمی تک ضروری فوجی سازوسامان، ہتھیار اور خوراک پہنچانے کے راستے کو یقینی بنایا۔
اس وقت ایران نے رسمی طور پر غیر جانبداری کی پالیسی اختیار کی ہوئی تھی اور شاہ رضا پہلوی نے اسی موقف کو برقرار رکھنے کی کوشش کی، مگر بین الاقوامی طاقتیں ایران کے وسائل اور مواصلاتی راستوں کو اپنی جنگی حکمتِ عملی میں کلیدی سمجھتی تھیں۔ خاص طور پر تہران سے خلیج تک جانے والی ٹرانس ایران ریلوے کو روس تک رسد پہنچانے کی ایک غیر متبادل راہ سمجھا جاتا تھا۔
تاہم اس بحران کی جڑیں 19ویں اور 20ویں صدی کے داخلی اور بیرونی تنازعات میں پیوستہ تھیں۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے مطابق قاجار دور میں مرکزی حکومت کمزور رہی اور برطانیہ و روس کا اثر و رسوخ بڑھا۔ پہلی عالمی جنگ اور بعد ازاں بالشویک انقلاب نے حالات کو پیچیدہ بنایا؛ روسی اثرِ رسوخ میں کمی اور برطانوی بالادستی کے نتیجے میں ایران داخلی سیاسی تبدیلوں کا شکار ہوا۔
1921 میں رضا خان کی فوجی بغاوت اور 1925 میں ان کے رضا شاہ پہلوی بننے کے بعد ایران میں ملکیتی مرکزیت اور فوجی تنظیم مضبوط ہوئی۔ رضا شاہ نے داخلی استحکام اور جدید ریاستی ڈھانچے کے لیے اقدامات کیے، جبکہ 1935 میں بین الاقوامی سطح پر ملک کا سرکاری نام ‘ایران’ قرار پایا۔ اس دور میں تہران اور برلن کے تعلقات میں بھی اضافہ ہوا، مگر تاریخی ریکارڈ میں یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نامِ ملک کی تبدیلی یا دیگر پالیسیاں براہِ راست نازی منصوبوں کی بدولت کی گئیں۔
1941 کے حملے نے ایران کی سیاسی تاریخ اور علاقائی توازن پر دیرپا اثرات چھوڑے، اور یہ واقعہ اس بات کی مثال بنا کہ عالمی جنگ میں تزویراتی مفادات کے لیے کسی ملک کی غیر جانبداری کو بآسانی نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔




