بغیر الارم جاگنے کے آسان طریقے، ماہرینِ نیند اور ایک تجربے کی کہانی

ماہرینِ نیند کہتے ہیں کہ مستقل معمول، مناسب نیند کی مدت اور قدرتی روشنی باڈی کلاک کو ترتیب دے کر بہت سے لوگ الارم کے بغیر قدرتی طور پر صبح جاگ سکتے ہیں۔

بی بی سی کی رپورٹر ایلی ہرشلاگ کے مطابق مناسب معمول، باڈی کلاک کو درست رکھنا اور قدرتی روشنی جیسی تبدیلیاں کئی لوگوں کو الارم کے بغیر قدرتی طور پر صبح بیدار کر سکتی ہیں؛ انہوں نے ایک ہفتہ طویل تجربہ کیا۔

بہت سے لوگ صبح اٹھنے کے لیے الارم پر انحصار کرتے ہیں، مگر نیند کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقل معمول، معیاری نیند اور جسمانی گھڑی یا باڈی کلاک کی ہم آہنگی سے اکثر افراد بغیر الارم کے خود بخود جاگ سکتے ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹر ایلی ہرشلاگ نے یہ جانچنے کے لیے ایک ہفتے طویل تجربہ کیا کہ کیا برسوں بعد دوبارہ بغیر الارم جاگنا سیکھا جا سکتا ہے۔

ہرشلاگ نے بتایا کہ نوجوانی میں وہ اکثر سکول کے دنوں میں الارم کے بجنے سے پہلے ہی جاگ جاتی تھیں، مگر کالج اور بعد ازاں شعبۂ زندگی میں غیر منظم شیڈول نے ان کی نیند متاثر کی اور الارم پر انحصار بڑھ گیا۔ 40 برس کے بعد انہیں محسوس ہوا کہ رات کو نیند پہلے جیسی آسانی سے نہیں آتی اور صبحے کمزور اور سست محسوس کرتے ہیں، جس کی وجہ سے کیفین کا سہارا لینا پڑتا تھا۔

تجربے سے پہلے ماہرین نے مشورہ دیا کہ پہلے چند دن اپنی موجودہ نیند کا شیڈول سمجھا جائے۔ ہرشلاگ کو ایک بحری سفر کے دوران اپنی قدرتی نیند کا پیٹرن معلوم ہوا: وہ عام طور پر رات 11:30 بجے سوتی اور صبح 8:00 بجے جاگتی تھیں، جو تقریبا 8.5 گھنٹے کی نیند بنتی ہے۔

ماہرین بتاتے ہیں کہ بالغ افراد کے لیے عام طور پر 7 سے 9 گھنٹے نیند کی سفارش کی جاتی ہے اور 6 گھنٹے سے کم نیند قبل ازوقت موت کے خطرے کو 20 فیصد تک بڑھا سکتی ہے۔ یونیورسٹی آف ٹیکساس ایٹ ڈیلس کی سلیپ اِنووَیشن لیبز کی ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر ایتی بین سائمن کہتی ہیں کہ ’آٹھ گھنٹے درمیانی معیار ہے، مگر افراد میں حیاتیاتی فرق کے باعث کچھ کو 7 اور بعض کو 9 گھنٹے ضرورت ہوتی ہے۔‘

یونیورسٹی آف مشی گن کی سلیپ اینڈ سرکیڈین ریسرچ لیب کی شریک ڈائریکٹر ہیلن برجس مشورہ دیتی ہیں کہ روزانہ ایک ہی وقت پر سونا ضروری ہے تاکہ مطلوبہ نیند پوری ہو سکے، اور جب یہ معمول بن جائے تو جسم خود بخود آرام محسوس کرنے لگتا ہے۔

ماہرین کی جانب سے ایک اور اہم سفارش قدرتی روشنی کو روزمرہ معمول میں شامل کرنا تھی، کیونکہ روشنی وہ ہارمونز متحرک کرتی ہے جو سونے اور جاگنے کے اشارے دیتی ہیں۔ ہرشلاگ نے ماہرین کی رہنمائی کے ساتھ اپنی باڈی کلاک کو سمجھنے اور اسے ترتیب دینے کی کوشش کی، اور ابتدائی طور پر اپنے نیند کے حقیقی اوقات کو نوٹ کرنا مفید پایا۔

ماہرین کا خلاصہ یہ ہے کہ بغیر الارم قدرتی طور پر جاگنا ممکن ہے بشرطیکہ مستقل شیڈول، مناسب نیند کی مدت اور دن میں قدرتی روشنی جیسی بنیادی ضروریات کا خیال رکھا جائے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1514