محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ پنجاب نے مفت ادویات کی فراہمی کیلئے فنڈز دینے سے ہاتھ کھینچ لیے

ہسپتالوں میں ادویات کی دستیابی محکمہ صحت کیلئے بڑا چیلنج بن گئی ہے کیونکہ محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ نے سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں کو مفت ادویات کی فراہمی کیلئے فنڈز دینے سے ہاتھ کھینچ لیے ہیں اور ہسپتالوں کو پرسنل لیجر اکاؤنٹ سے ادویات خریدنے کی ہدایت کر دی ہے ۔ اس حوالے سے محکمہ نے باقاعدہ مراسلہ بھی جاری کر دیا ہے ۔یہ بات روزنامہ دنیا نے لکھی ۔
مراسلے کے مطابق سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ پرسنل لیجر اکاؤنٹ سے بورڈ ملازمین کی تنخواہوں پر صرف 40 فیصد رقم خرچ کی جائے ، باقی فنڈز ادویات کی خریداری پر استعمال ہوں۔ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیچنگ ہسپتالوں میں پرسنل لیجر اکاؤنٹ کا 70 سے 80 فیصد حصہ پہلے ہی تنخواہوں پر خرچ ہو جاتا ہے ۔ تنخواہوں پر 40 فیصد کی قدغن لگانے سے سینکڑوں ملازمین کی نوکریاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ سرکاری ٹیچنگ ہسپتال پرسنل لیجر اکاؤنٹ فنڈز کو ادویات کی خریداری پر خرچ کریں۔ تاہم ماہرین کا خدشہ ہے کہ پرسنل لیجر اکاؤنٹ فنڈز ادویات پر خرچ کرنے سے ہسپتالوں کو دیگر ہنگامی ضروریات اور ایمرجنسی اخراجات کیلئے فنڈز میسر نہیں ہوں گے جس سے مریضوں کی دیکھ بھال متاثر ہو سکتی ہے ۔
