لارڈز میں زبردست شکست کے بعد پاکستان کا ایک اور ناپسندیدہ ٹیسٹ ریکارڈ

لارڈز میں انگلینڈ کے خلاف 194 رنز کی شکست کے باعث پاکستان کے مجموعی ٹیسٹ ریکارڈ میں ہاریں پہلی بار 1987 کے بعد جیتوں سے زیادہ ہو گئیں۔

لارڈز میں دوسرے ٹیسٹ میں انگلینڈ کے خلاف 194 رنز کی شکست کے بعد پاکستان کے ٹیسٹ میچز میں ہاریں پہلی مرتبہ 1987 کے بعد جیتوں سے زیادہ ہو گئیں; اب پاکستان کے پاس 154 ہاریں، 153 جیتیں اور 166 ڈرا میچز ہیں۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کو لارڈز میں انگلینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں 194 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں تین میچوں کی سیریز میں انگلینڈ نے ناقابلِ واپسی 2-0 برتری حاصل کر لی۔

یہ نتیجہ تاریخی لحاظ سے اہم ہے کیونکہ اس کے بعد اب پاکستان نے مجموعی طور پر 473 ٹیسٹ میچوں میں 154 بار ہار کا تجربہ کیا ہے جبکہ جیتیں 153 رہ گئیں۔ باقی 166 ٹیسٹ مقابلے ڈرا رہے۔

لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان پہلے اننگز میں صرف 110 رنز تک محدود رہا۔ میزبان ٹیم نے پاکستان کو دوسری اننگز میں 389 رنز کا ہدف دیا، جسے حاصل کرنے کی کوشش میں پاکستان 194 رنز پر آؤٹ ہو گیا۔ دوسری اننگز میں سعود شکیل نے جارحانہ 97 رنز بنا کر ٹیم کی شراکت میں نمایاں کردار ادا کیا، مگر ان کی کوشش ٹیم کو فتح نہیں دلا سکی۔

یہ پہلا موقع ہے جب 1987 کے بعد پاکستان کے کھاتہ میں نقصانات جیتوں سے آگے نکلے ہیں۔ اس سے قبل اگست 1987 میں اوول میں انگلینڈ کے خلاف ڈرا کے بعد پاکستان کے ریکارڈ میں 39 جیتیں اور 40 ہاریں تھیں؛ تب سے پاکستان نے طویل عرصے تک جیتوں میں برتری برقرار رکھی۔

حالیہ برسوں میں متعدد مایوس کن نتائج کی وجہ سے یہ برتری آہستہ آہستہ کم ہوتی گئی اور لارڈز کی حالیہ شکست نے یہ سنگ میل عبور کرایا۔

سیریز کا پہلا ٹیسٹ ہیڈنگلے میں انگلینڈ کی جانب سے اننگز اور 103 رنز کی نمایاں کامیابی کے ساتھ ختم ہوا تھا، جس نے اس شاندار برتری کی بنیاد رکھی۔

ٹیمیں تیسرا اور فیصلہ کن ٹیسٹ ایڈگ باسٹن میں 9 ستمبر سے کھیلیں گی، جہاں پاکستان کے لیے سیریز میں واپسی یا مزید شکست کا فیصلہ سامنے آئے گا۔

میچ سے متعلق اعداد و شمار، کھلاڑیوں کی کارکردگی اور آنے والی میچوں کی تاریخ اسی رپورٹ کی بنیاد ہیں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1515