گرمی کی لہر، بہت ٹھنڈا پانی پینے سے گریز کریں

40سے 50 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان اگلی گرمی کی لہر کے لیے تیار رہیں۔
ٹھنڈا یا برف کا پانی پینے سے پرہیز کریں!
اس وقت ملائیشیا، انڈونیشیا، سنگاپور اور دیگر ممالک’’گرمی کی لہر‘‘ کا سامنا کر رہے ہیں۔
شیخ زید ہسپتال کے ڈاکٹر عباس حسین کاظمی نےاحتیاطی تدابیر کے حوالے سے کہا ہے کہ
1. ڈاکٹر مشورہ دیتے ہیں کہ جب درجۂ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جائے تو بہت ٹھنڈا پانی نہ پیئیں، کیونکہ ہماری چھوٹی خون کی شریانیں پھٹ سکتی ہیں۔
2. جب باہر کی گرمی 38 ° C تک پہنچ جائے اور جب آپ گھر آئیں تو ٹھنڈا پانی نہ پئیں – صرف گرم پانی ہی آہستہ سے پیئیں۔
اپنے ہاتھ یا پیروں کو فوری طور پر نہ دھوئیں،
اگر آپ تیز دھوپ سے آئیں۔ نہانے سے پہلے کم از کم آدھا گھنٹہ انتظار کریں۔
3. کسی نے گرمی سے ٹھنڈا ہونا چاہا اور فوراً نہا لیا۔ شاور کے بعد، اس شخص کو سخت جبڑے کے ساتھ ہسپتال لے جایا گیا اور اسے فالج کا دورہ پڑا۔
گرمی کے مہینوں میں یا اگر آپ بہت تھکے ہوئے ہیں تو فوری طور پر بہت ٹھنڈا پانی پینے سے گریز کریں کیونکہ اس سے رگیں یا خون کی نالیاں تنگ ہو سکتی ہیں جو کہ فالج کا باعث بن سکتی ہیں۔
شیخ زید ہسپتال کے ڈاکٹر عباس حسین کاظمی نے زور دے کر کہا کہ اگر یہ میسج حاصل کرنے والا ہر شخص دوسروں کو بھیج دے تو یقیناً کم از کم ایک جان تو بچائی جاسکتی ہے .ہم نے اپنے حصّے کا کام کر دیا ہے، امید ہے آپ بھی اپنے حصّے کا کام کریں گے۔ گرم ناریل کا پانی آپ کی زندگی بچا سکتا ہے۔
اپنی صحت کا خود خیال رکھیں۔
جس کنویں سے لوگ پانی پیتے ہیں وہ کبھی نہیں سوکھتا، جس سے پانی لینا چھوڑ دیا جائے وہ سوکھ جاتا ہے، یہ اللہ کا قانون ہے سوکھنے سے بچنا ہے تو لوگوں کے لیے فائدہ مند بنیے، جہاں جتنا ممکن ہو لوگوں کا بھلا کیجیے.
