پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم بخار میں مبتلا ہو گئے ہیں جبکہ ٹیم 9 سے 13 ستمبر کے درمیان ایڈگ باسٹن، برمنگھم میں کھیلے جانے والے تیسری اور آخری ٹیسٹ سے پہلے ایک تازہ اسکواڈ اور کوچنگ اوورہال سے گزر چکی ہے، پاکستان 2-0 سے سیریز میں پیچھے ہے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم کو تیسرا ٹیسٹ شروع ہونے سے ایامِ قبل بخار ہوا ہے، تاہم ٹیم کے میڈیا مینیجر نوید اکرم چیمہ نے کہا ہے کہ فی الحال تشویش کی ضرورت نہیں اور وہ طبی طور پر فٹ ہیں اور جلد صحتیاب ہونے کی توقع ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف پہلے دو ٹیسٹ میچز میں بھاری شکستیں کھائیں، پہلے ٹیسٹ میں ایک اننگز اور 103 رنز سے ہار کے بعد لارڈز میں دوسرے ٹیسٹ میں 194 رنز سے شکست ہوئی، جس کے نتیجے میں پاکستان 3 میچوں کی سیریز میں 2-0 سے پیچھے ہے۔
پہلے دونوں ٹیسٹ میں پاکستان نے اپنی چاروں اننگز میں 200 رنز بھی عبور نہیں کیے، اور بابراعظم نے لارڈز میں بالترتیب 8 اور 6 رنز بنائے۔ قابلِ اعتماد ذرائع کے مطابق 31 سالہ کپتان پر ٹیم کی کارکردگی اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے حالیہ بڑے فیصلوں کے بعد شدید دباؤ ہے۔
اسی دباؤ کے دوران پی سی بی نے اسکواڈ میں بڑے تبدیلیاں کی ہیں: امام الحق، اویس ظفر، محمد رضوان، سلمان علی آغا، عامر جمال، علی عثمان اور خرم شہزاد کو اسکواڈ سے خارج کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب سیم ایوب، عبداللہ فاضل، عرفات منہاس، محمد عمران، رضااللہ، محمد عمران جونئیر اور سعد بیگ کو تیسرا ٹیسٹ کھیلنے کے لیے شامل کیا گیا ہے۔
کوچنگ اسٹاف میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں: ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ گل کو ٹیم کے سیٹ اپ سے ہٹایا گیا ہے اور فائنل ٹیسٹ کے لیے وائٹ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن اور ایشلے نوفکے کو عبوری طور پر تعینات کیا گیا ہے۔
نوید اکرم چیمہ نے کہا ہے کہ بابراعظم کی طبی کیفیت سنجیدہ نہیں اور توقع ہے کہ وہ جلدی بحالی کر لیں گے، مگر سریز میں پاکستان کی پرفارمنس اور پی سی بی کے ان حالیہ فیصلوں نے ٹیم پر اضافی دباؤ ڈال دیا ہے۔
تیسرا ٹیسٹ 9 ستمبر سے 13 ستمبر تک ایڈگ باسٹن، برمنگھم میں کھیلا جائے گا اور پاکستان کو اس میچ میں شکست سے بچ کر سیریز میں عزت برقرار رکھنے کی کوشش کرنی ہو گی۔




