پاکستان کا تجارتی خسارہ رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں 18 فیصد بڑھ کر سات ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا

پاکستان بیورو برائے شماریات کے مطابق مالی سال 2026-27 کے پہلے دو ماہ میں تجارتی خسارہ 18% بڑھ کر $7.1 بلین ہو گیا؛ درآمدات 13% جبکہ برآمدات 7% بڑھی۔

پاکستان بیورو برائے شماریات (پی بی ایس) کے مطابق مالی سال 2026-27 (ایف وائی 27) کے پہلے دو ماہ میں ملک کا تجارتی خسارہ سال بہ سال 18% بڑھ کر $7.1 بلین تک پہنچ گیا، کیونکہ درآمدات برآمدات کی نسبت تیزی سے بڑھیں؛ اگست 2026 میں ایک ماہ کا خسارہ $3.2 بلین درج ہوا۔

اسلام آباد — پاکستان بیورو برائے شماریات (پی بی ایس) کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026-27 کے پہلے دو ماہ (جولائی اور اگست 2026) میں پاکستان کا تجارتی خسارہ سال بہ سال 18% بڑھ گیا اور $7.1 بلین ریکارڈ کیا گیا۔

اعداد و شمار دکھاتے ہیں کہ اسی مدت میں برآمدات 7% اضافے کے ساتھ $5.5 بلین تک پہنچیں، جبکہ درآمدات 13% اضافے کے ساتھ $12.6 بلین تک بڑھ گئیں۔ اس تیز رفتار درآمدی نمو نے مجموعی تجارتی فرق کو بڑھا دیا۔

محکمہ شماریات کے اعداد کے مطابق خاص طور پر اگست 2026 میں ایک ماہ کا تجارتی خسارہ $3.2 بلین رہا، جو سال بہ سال 10% زیادہ تھا مگر ماہ بہ ماہ 20% کم ہوا۔ اسی ماہ برآمدات $2.5 بلین رہیں جو سال بہ سال 3.8% اضافہ مگر جولائی کے مقابلے میں 15% کمی کی عکاسی کرتی ہیں۔ درآمدات اگست میں $5.7 بلین تھیں، جو سال بہ سال 7.4% زیادہ تھیں لیکن ماہ بہ ماہ 17.6% کی کمی دکھاتی ہیں۔

پروپاکستانی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگست کے اعداد و شمار جولائی میں مضبوط کارکردگی کے بعد آئے، جس کے باعث پہلے دو ماہ کا مجموعی خسارہ $7.1 بلین تک پہنچ گیا۔

یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ موجودہ دور میں درآمدات برآمدات کے مقابلے میں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جو تجارتی توازن پر دباؤ کا سبب بن سکتی ہے۔ تاہم رپورٹ میں غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر یا طویل مدتی رجحانات کے بارے میں تفصیلی تشریح شامل نہیں ہے۔

پی بی ایس کے اعداد و شمار حکومتی اور نجی معیشتی حلقوں کے لیے اہم اشاریہ ہیں کیونکہ وہ درآمدی و برآمدی سلسلے اور تجارتی توازن کے بارے میں تازہ ترین تصویر فراہم کرتے ہیں۔ اگلے ماہ شائع ہونے والے اعدادوشمار سے واضح ہو گا کہ آیا یہ رجحان جاری رہا یا عارضی اتار چڑھاؤ تھا۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1516