پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے 3 ستمبر 2026 کو خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر پی ٹی اے کے نام سے ایک جعلی نوٹیفیکیشن گردش کر رہی ہے جس میں فون نمبر (051) 7080507 کا حوالہ دے کر صارفین سے کہا گیا ہے کہ کال اٹھانے سے موبائل ڈیٹا یا ایزی پیسہ سمیت دیگر موبائل اکاؤنٹس ہیک ہو سکتے ہیں؛ اتھارٹی نے یہ پیغام جھوٹا قرار دیتے ہوئے عوام سے اسے شیئر نہ کرنے کا کہتے ہوئے خبردار کیا ہے۔
اسلام آباد — پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ایک وائرل پیغام کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتھارٹی نے اس طرح کا کوئی الرٹ جاری نہیں کیا۔ وائرل نوٹیفیکیشن پی ٹی اے کے برانڈنگ کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے اور اس میں نمبر (051) 7080507 دکھایا گیا ہے۔
اس جعلی پیغام میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس نمبر سے آنے والی صوتی ہدایات پر عمل کرنے سے صرف کال کا جواب دینے کے چند سیکنڈ ہی میں صارف کے فون پر موجود معلومات اور ایزی پیسہ یا دیگر موبائل اکاؤنٹس ہیک ہو سکتے ہیں۔ پیغام مزید الزام لگاتا ہے کہ مجرم عام طور پر صارف سے ایک وقتی پاس ورڈ مانگتے بھی نہیں بلکہ کسی قسم کا سافٹ ویئر نمبر کے ساتھ منسلک ہونے کی وجہ سے کال کے دوران ڈیٹا چوری کر لیتا ہے، اور یہ عمل صرف 5 سے 7 سیکنڈ میں ہو جاتا ہے۔
پی ٹی اے نے واضح طور پر کہا ہے کہ یہ وائرل پیغام جھوٹا اور گمراہ کن ہے اور اس نے اس نوعیت کا کوئی نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا۔ اتھارٹی نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ غیر مستند سوشل میڈیا پوسٹس پر اعتماد نہ کریں اور ایسی معلومات کو آگے شیئر کرنے سے گریز کریں۔ پیغام میں خود وصول کنندگان کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس وارننگ کو اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو فارورڈ کریں، مگر پی ٹی اے نے تاکید کی ہے کہ بنیاد بنا تصدیق کے کسی بھی پیغام کو پھیلانا خطرناک ہو سکتا ہے۔
پی ٹی اے کا انتباہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل اطلاعات کی مصدقگی چیک کرنا ضروری ہے۔ اتھارٹی نے صارفین سے کہا ہے کہ وہ مشکوک پیغامات کی صورت میں رسمی ذرائع سے تصدیق کریں اور ذاتی یا مالی معلومات شیئر نہ کریں۔




