سائبر سکیورٹی ماہر آصف اقبال نے 2026-09-04 کو اے آر وائی نیوز کے پروگرام ‘گڈ مارننگ پاکستان’ میں صارفین کو ہدایت کی کہ وہ واٹس ایپ اکاؤنٹس کو محفوظ کرنے کے لیے دو مرحلائی تصدیق فعال کریں، ای میل لنک کریں اور اکاؤنٹ ہیک ہونے کی صورت میں فوری طور پر قومی سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) سے رابطہ کریں — ماہر نے مخصوص بازیابی اوقات اور فراڈ کے پیسے مطالبے کے خطرات بھی واضح کیے۔
کراچی — سائبر سکیورٹی کے ماہر آصف اقبال نے واٹس ایپ (واٹس ایپ) کے صارفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ بنیادی حفاظتی اقدامات اپنائیں تاکہ ہیکنگ کے خطرات کم کیے جا سکیں اور اگر اکاؤنٹ متاثر ہو بھی جائے تو جلد از جلد بازیابی ممکن ہو۔
اِس دوران آصف اقبال نے زور دیا کہ گھبراہٹ کی بجائے احتیاطی اقدامات پر توجہ دیں اور متعلقہ حکام سے فوراً رابطہ کریں۔ اُن کے بقول زیادہ تر واقعات لاعلمی یا غفلت کی وجہ سے ہوتے ہیں جس کا فائدہ حملہ آور دھوکہ دہی کے ذریعے اٹھاتے ہیں۔
اہم حفاظتی اقدامات میں، آصف اقبال نے واٹس ایپ اور دیگر سماجی رابطے کی ایپس پر دو مرحلائی تصدیق فعال کرنے کو سب سے مؤثر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اضافی حفاظتی تہہ غیر مجاز رسائی روکنے میں مدد دیتی ہے۔
ماہر نے صارفین کو اپنے واٹس ایپ اکاؤنٹ کے ساتھ ای میل ایڈریس لنک کرنے کی بھی تجویز دی۔ اُن کے مطابق ای میل لنک ہونے کی صورت میں ہیک شدہ واٹس ایپ اکاؤنٹ 10 سے 15 منٹ میں بازیافت کیا جا سکتا ہے، جبکہ سم کارڈ کے ذریعے بازیابی کا طریقہ ہیکنگ کے تقریباً ایک گھنٹے بعد دستیاب ہو سکتا ہے۔
اِس کے علاوہ آصف اقبال نے بتایا کہ بعض صورتوں میں آئی فون صارفین کو فوری ریکوری کے لیے ایک اینڈرائیڈ ڈیوائس استعمال کرنی پڑ سکتی ہے تاکہ مطلوبہ بازیابی ای میل بھیجی جا سکے۔
حکومتی مدد کی اہمیت پر تبصرہ کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ قومی سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں ماہرین ایسے معاملات کو 15 سے 30 منٹ کے اندر نمٹانے میں مدد کر سکتے ہیں، اس لیے متاثرہ صارفین کو فوراً شکایت درج کروانی چاہئے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ہیکرز اکثر متاثرہ اکاؤنٹس کے ذریعے متاثرہ شخص کے رابطوں کو پیغامات بھیج کر ایزی پیسہ یا بینک ٹرانسفر کے ذریعے رقم مانگتے ہیں، اس لیے صارفین کو مشورہ دیا کہ بھیجی گئی کسی بھی بینک یا پیمنٹ تفصیل کو محفوظ رکھیں تاکہ سائبر کرائم حکام نشاندہی اور ٹریس کر سکیں۔
آخر میں آصف اقبال نے صارفین سے کہا کہ ذاتی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے سے پہلے رازداری کی سیٹنگز کا جائزہ لیں، کیونکہ مناسب پرائیویسی سیٹنگز غیر متعلقہ افراد سے نجی معلومات کی حفاظت کرتی ہیں۔



