آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے 2026 کی دوسری ششماہی کے لیے ویل ہیڈ گیس کی قیمتیں زیادہ سے زیادہ 16 فیصد تک بڑھا دیں۔ ٹاپ لائن سکیوریٹیز کے مطابق پیٹرولیم پالیسی 2012 کے تحت چلنے والے فیلڈز میں اوسطاً تقریباً 10 فیصد اضافہ ہوگا۔ یہ ترمیم سالانہ قیمت ایڈجسٹمنٹ میکانزم اور جنوری تا جون 2026 کے دوران خام تیل کی اوسط قیمت میں اضافے کی بنیاد پر نافذ کی گئی ہے۔
اسلام آباد — آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے 2026 کی دوسری ششماہی کے لیے ویل ہیڈ گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ نوٹیفائی کیا ہے، جو کچھ فیلڈز کے لیے زیادہ سے زیادہ 16 فیصد تک پہنچتا ہے۔ ٹاپ لائن سکیوریٹیز نے اس فیصلے کی تفصیلات جاری کیں اور کہا ہے کہ پیٹرولیم پالیسی 2012 کے تحت کام کرنے والے فیلڈز میں اوسطاً تقریباً 10 فیصد اضافہ متوقع ہے۔
حکومت یا ریگولیٹر کی جانب سے کی گئی اس ترمیم کا اطلاق 2026 کی دوسری ششماہی سے ہوگا اور اسے سالانہ قیمت ایڈجسٹمنٹ میکانزم کے تحت جائزہ لے کر نافذ کیا گیا ہے۔ وضاحت میں کہا گیا ہے کہ جنوری تا جون 2026 کے دوران عرب لائٹ خام تیل کی اوسط قیمت $92.2 فی بیرل رہی، جو جولائی تا دسمبر 2025 کی اوسط $68.4 فی بیرل کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ہے—اور یہی تیل کی قیمتوں میں اضافے کا بنیادی سبب قرار پایا۔
ماخذ کے مطابق مخصوص فیلڈز کی نئی قیمتوں میں فرق بھی درج کیا گیا ہے: چاچار فیلڈ کی ویل ہیڈ قیمت 15.8 فیصد بڑھ کر $2.02 فی ایم ایم بی ٹی یو ہوئی، جبکہ بھٹ اور بڈھرا فیلڈز کی قیمتیں 15.4 فیصد بڑھ کر $4.45 فی ایم ایم بی ٹی یو ہو گئیں۔ فزل ایکس1، ریان 1، شہدادپور اور دھوک سلطان کی قیمتوں میں قریباً 9.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رزق فیلڈ کی قیمت 6.7 فیصد بڑھ کر $6.32 فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ گئی، اور رحمن فیلڈ میں دونوں پیداواری زمروں کی قیمتیں 6.7 فیصد اوپر گئیں۔ آدم ایکس1 ویل کی قیمت معمولی طور پر 0.4 فیصد بڑھ کر $2.74 فی ایم ایم بی ٹی یو ہوئی۔
ٹاپ لائن سکیوریٹیز نے کہا کہ عمومی ترمیم اوسطاً 8 فیصد تا 10 فیصد اضافے کے برابر ہے اور انہوں نے اس اضافہ کو تلاش اور پیداوار (ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن) سیکٹر کی کمائیوں کے لیے مثبت قرار دیا ہے، کیونکہ اعلیٰ قیمتیں کمپنیوں کی آمدنی میں مدد دیں گی۔ اوگرا نے بعض فیلڈز کے لیے نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں اور باقی فیلڈز کے لیے نظرثانی شدہ نرخوں کی اطلاعات آنے کی توقع ہے۔
اس فیصلے کا براہِ راست اثر گیس پیدا کرنے والی کمپنیوں اور متعلقہ انڈسٹری کے منافع پر پڑنے کی توقع ہے، جبکہ صارفین یا گھریلو قیمتوں پر اس خبر میں فی الحال کسی فوری تبدیلی کا ذکر ماخذ میں موجود نہیں ہے۔




