پاکستان کا نیا ’ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026‘ چیف آف ڈیفنس فورسزعاصم منیر کو فوج، بحریہ اور فضائیہ پر قانونی آپریشنل کمان اور اہلکاروں سے متعلق وسیع تر اختیارات تفویض کرتا ہے۔
( مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کی پارلیمنٹ کی جانب سے منظور کیے گئے نئے دفاعی قانون نے ملک کے اعلیٰ فوجی کمانڈ سٹرکچر میں ایک بڑی اور تاریخی تبدیلی کو قانونی شکل دے دی ہے۔ ڈیفنس فورسز آف پاکستان ایکٹ 2026 کے تحت فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، جو بیک وقت چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز ہیں، کو پہلی مرتبہ قانونی طور پر بری فوج، بحریہ اور فضائیہ کی مشترکہ آپریشنل کمانڈ حاصل ہوگئی ہے۔
نئے قانون کے تحت تینوں سروسز کے درمیان مشترکہ آپریشنز، ملٹی ڈومین انٹیگریشن، سٹریٹجک معاملات اور قومی سلامتی سے متعلق امور کی نگرانی چیف آف ڈیفنس فورسز کے دائرۂ اختیار میں ہوگی۔ اس مقصد کے لیے ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز قائم کیا گیا ہے، جس کی کمانڈ بھی چیف آف ڈیفنس فورسز کے پاس ہوگی۔ اس تبدیلی سے پہلے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی تینوں سروسز کے درمیان رابطہ اور ہم آہنگی کا کردار ادا کرتے تھے، تاہم اس عہدے کے پاس تینوں افواج پر براہِ راست آپریشنل کمانڈ کا قانونی اختیار نہیں تھا۔ 1976 میں قائم ہونے والے اس عہدے کے خاتمے کے بعد نیا نظام ایک واحد کمانڈ کے تحت تینوں سروسز کو مربوط کرتا ہے۔
نئے قانونی فریم ورک کی ایک اہم خصوصیت فوجی اہلکاروں سے متعلق اختیارات ہیں۔ قانون کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز کو مسلح افواج سے متعلق قانون کے دائرے میں آنے والے اہلکاروں کو ریٹائر، سروس سے فارغ، استعفیٰ قبول یا مسترد کرنے، سروس میں برقرار رکھنے اور بعض صورتوں میں ریٹائرمنٹ کی عمر یا سروس کی حد میں نرمی دینے کے اختیارات حاصل ہیں۔ تاہم آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت صدر کی جانب سے وزیراعظم کے مشورے پر مقرر ہونے والے سروس چیفس اس دائرے سے مستثنیٰ ہیں۔
نیشنل کمانڈ اتھارٹی سے متعلق قانون میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں تاکہ نئی فوجی کمانڈ اسٹرکچر کو جوہری کمانڈ کے قانونی فریم ورک سے ہم آہنگ کیا جاسکے۔ تاہم نیشنل کمانڈ اتھارٹی، جس کی سربراہی وزیراعظم کرتے ہیں، جوہری پالیسی اور جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق حتمی اختیار برقرار رکھتی ہے۔ عاصم منیر کو دسمبر 2025 میں ملک کا پہلا چیف آف ڈیفنس فورسز مقرر کیا گیا تھا، جبکہ ان کی پانچ سالہ مدت نومبر 2030 تک بنتی ہے۔ نئے قانون نے ان کے عہدے اور اختیارات کو مزید واضح اور مضبوط قانونی بنیاد فراہم کردی ہے۔ حکومت کے مطابق نئی کمانڈ کا مقصد تینوں افواج کے درمیان بہتر ہم آہنگی، مشترکہ آپریشنل صلاحیت اور بحران کی صورت میں تیز تر فیصلہ سازی ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک ہی افسر کے پاس تینوں سروسز کی آپریشنل اور انتظامی طاقت کا ارتکاز فوجی نظام کو مزید آرمی مرکز بنا سکتا ہے اور سول نگرانی سے متعلق سوالات کو جنم دے سکتا ہے۔




