بحیرہ احمر کے دروازے کے کنٹرول پر یمن کی تازہ جھڑپوں میں 60 سے زائد ہلاک

اے ایف پی کے مطابق یمن کی سرکاری فورسز اور حوثی باغیوں کے درمیان جنوب مغربی علاقوں میں بحیرہ احمر کے راستے کے کنٹرول کی جنگ میں ہفتے کو 60 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں عام شہری بھی شامل ہیں۔

بین الاقوامی مہڈیا رپورٹس کے مطابق یمن کی سرکاری فورسز اور حوثی باغیوں کے درمیان جنوب مغربی علاقوں میں بحیرہ احمر تک رسائی کے اہم راستے کے کنٹرول کے لیے ہونے والی تازہ جھڑپوں میں ہفتے کو عام شہریوں سمیت 60 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمن کی سرکاری افواج اور حوثی باغیوں کے درمیان جنوب مغربی علاقوں میں جاری لڑائی ہفتے کو تازہ ہلاکتوں کا باعث بنی۔ لڑائی کئی گھنٹوں تک جاری رہی اور اِس میں کم و بیش 26 فوجی ہلاک ہوئےجبکہ 31 حوثی باغی مارے گئے۔

حکومت کے زیرِ کنٹرول شہر تعز کے ایک ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ ایک میزائل حملے میں تعز اور عدن کے درمیان سفر کر رہی ایک بس پر حملہ ہوا جس میں چھ عام شہری ہلاک اور سات زخمی ہوئے۔ حکومت نے اس بس حملے کا الزام حوثیوں پر لگایا۔

ایک فوجی اہلکار نے تعز میں کہا کہ آئندہ چند گھنٹے فیصلہ کن ہوں گے کیونکہ حوثیوں نے شہر کے قریب پوزیشنیں سنبھال رکھی ہیں جس کے جواب میں عدن سے کمک روانہ کی گئی ہے۔ حوثی حملے کا ایک مقصد سرکاری زیرِ کنٹرول بندرگاہ مخا کو الگ کر کے بابِ المندب کے نزدیک علاقوں کی طرف پیش قدمی کرنا ہے۔

واضھ رہے کہ جمعے کو ہونے والی جھڑپوں میں 129 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ دن گزشتہ ماہ جولائی میں 2022ء کے عارضی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے سب سے زیادہ جانوں کے ضیاع میں سے ایک تھا۔

ایک فوجی اہلکار کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے تعز میں حال ہی میں حوثیوں کے قبضہ کیے گئے مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے تین فضائی حملے کیے۔ اِن علاقوں کی جغرافیائی اہمیت اِس لیے بڑھ گئی ہے کیونکہ ایران نے کمرشل جہازوں کے لیے ہُرمز کے راستے کو بند کر دیا ہے جس سے بابِ المندب تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم متبادل راستہ بن گیا ہے۔

یمن میں کشیدگی کی تازہ لہر اور مجموعی طور پر مشرقِ وسطیٰ کا تنازعہ کے ایک نئے محاذ کا عکاس ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1519