بنگلہ دیش میں خسرے سے کم و بیش ایک ہزار بچے جاں بحق

بنگلادیش میں میزلز کی وبا نے مارچ سے کم از کم 986 بچوں کی جان لے لی ہے؛ کیسز 180,000 سے اوپر اور روزانہ 1,000+ مشتبہ کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں، ویکسین مہم جاری ہے۔

ڈھاکہ (مانیٹرنگ ڈیسک) بنگلہ دیش میں دہائیوں کی سب سے مہلک خسرے کی وباء سے بچوں کی ہلاکتیں 986 تک پہنچ گئی ہیں۔ وزارتِ صحت کی کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مشتبہ اور تصدیق شدہ کیس ایک لاکھ 80 ہزار سے تجاوز کر چکے ہیں جبکہ روزانہ ایئک ہزار سے زائد کیس رپورٹ ہو رہے ہیں۔

بنگلہ دیش میں مارچ سے جاری خسرے کی وباء تیزی سے پھیل رہی ہے اور ملک کے ہسپتالوں میں بچوں کے وارڈ بھر چکے ہیں۔

ڈھاکہ کے شِشو ہسپتال میں ماںیں اور والدین بچوں کی دیکھ بھال کے لئے بے قراری سے قطار بنائے بیٹھے ہیں۔ ایک ماں نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ اُن کی آنکھوں کے سامنے بچے فوت ہو رہے ہیں، آج دو بچے فوت ہوئے جن میں سے ایک بچہ گھنٹہ بھر قبل ہی فوت ہوا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اُن کا شیر خوار بچہ خسرہ وارڈ میں داخل ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق خسرہ وباء کی صورت اختیار کر جاتا ہے کیونکہ یہ کھانسنے اور چھینک سے بہت تیزی سے پھیلتا ہے، اِس کا کوئی مخصوص علاج موجود نہیں ہے، اِس مرض میں دماغ میں سوجن اور شدید سانس لینے کے مسائل پیدا ہوتے ہیں جس کی وجہ سے بالخصوص چھوٹے بچے اپنی جان گنوا بیٹھتے ہیں۔

حکومت نے وباء سے نبٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر ویکسینیشن مہم شروع کر دی ہے تاہم کیسوں میں اضافہ تاحال جاری ہے، ہسپتالوں پر اِس وقت شدید دباؤ ہے۔ صحت کے عہدیدار اور طبی عملہ مخصوص بچوں کے وارڈوں میں مریضوں کی دیکھ بھال کر رہے ہیں جبکہ خدشات یہ ہیں کہ اضافی کیسوں کی تعداد میں کمی نہ آئی تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1515