انسدادِ بدعنوانی مہم، پنجاب حکومت نے 54 افسران برطرف یا معطل کر دیے

پنجاب حکومت نے بدعنوانی کے تازہ مرحلے میں 54 افسران کو برطرف یا معطل کیا، خوراک محکمہ میں 48 کے خلاف کارروائی ہوئی اور پولیس نے داخلی احتساب شاخ (آئی اے بی) کی تنظیم نو کا فیصلہ کیا۔

لاہور (کرائم رپورٹر) پنجاب حکومت نے بدعنوانی کے خلاف تازہ آپریشن میں محکمہ خوارک کے 48 افراد سمیت مجموعی طور پر 54 افسروں کو برطرف یا معطل کر کے متعدد کے خلاف مقدمات درج کر کے اُنہیں گرفتار کر لیا ہے۔

سرکاری بیان کے مطابق بہاولپور سے چھ خوراک (اناج) انسپکٹروں کو سروس سے برطرف کیا گیا۔ گوجرانوالہ کے کئی افسروں کو بھی برطرف کیا گیا۔ شعبے کے دیگر متاثرہ افسروں میں سرگودھا، بہاولنگر، اوکاڑہ، نارووال، رحیم یار خان، ڈیرہ غازی خان اور میانوالی میں مبینہ بدعنوانی کے الزامات کی بنیاد پر تحقیقات کی جارہی ہیں۔ اِسی طرح ساہیوال، ڈیرہ غازی خان، گجرات، اٹک، چکوال، لیہ، گوجرانوالہ، بہاولنگر اور میانوالی کے افسروں کے خلاف تادیبی کاروائیاں چلائی جا رہی ہیں۔ محکمہ اینٹی کرپشن رشوت ستانی اور دیگر کرپشن کے الزام میں گرفتاریوں اور مقدمات کے اندراج میں تیزی لایا ہے۔ پنجاب پولیس نے اپنی انٹرنل اکائونٹیبِلیٹی برانچ (آئی اے بی) کو زیادہ خودمختار اور موثر بنانے کے لیے تنظیم نو کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب (آئی جی) عبدالکریم کی صدارت میں سینٹرل پولیس آفس میں ہونے والی میٹنگ میں کیا گیا۔ مجوزہ اصلاحات کے تحت آئی اے بی تحقیقات میں سپیشل برانچ سے موصولہ معلومات کو شامل کرے گی، ڈی آئی جی آئی اے بی روزانہ ذاتی طور پر سب انسپکٹروں اور سینئر رینک افسروں کے خلاف شکایات کا جائزہ لیں گے جبکہ علاقائی ایس پی خود کرپشن اور دیگر سنگین الزامات کی جانچ کریں گے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1515