فاطمہ لاکھانی، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کی سینیئر وائس پریزیڈنٹ، پہلی بار خواتین کی حیثیت سے ایشیائی کھیلوں کی قومی ٹیم کی قیادت کر رہی ہیں۔ اس تاریخی تقرر کے ساتھ وہ ہفتے شروع ہونے والے جاپان میں ہونے والے 20ویں ایشیائی گیمز میں ملک کے 23 کھیلوں اور 14 خواتین کے ایونٹس میں حصہ لینے کی امید کا اظہار کر رہی ہیں۔
فاطمہ لاکھانی نے ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ اس ذمہ داری کو وہ “عزت اور فخر” سمجھتی ہیں اور اس سے خواتین کی معاشرتی اہمیت اور مردوں کے برابر حقوق کی عکاسی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈلز جیتنا اہم ہے مگر بین الاقوامی اسٹیج پر پاکستان کا نام نمایاں کرنا اس سے بھی زیادہ قدر کا حامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے یقین دلایا کہ ایشیائی گیمز کے دوران حاصل ہونے والا تجربہ آئندہ سال ملک کی میزبانی میں ہونے والے ساؤتھ ایشیائی گیمز کی کامیاب تنظیم میں مددگار ثابت ہوگا۔
اس سال پاکستان 23 مختلف کھیلوں میں مقابلہ کرے گا جن میں ایتھلیٹکس، کبڈی، مرد اور خواتین کرکٹ، اسکوئش، شوٹنگ، ہاکی، والی بال اور باکسنگ شامل ہیں۔ خواتین کے لیے 14 ایونٹس کا اہتمام کیا گیا ہے جس سے خواتین کھیلوں میں بڑھتی ہوئی شرکت کی عکاسی ہوتی ہے۔ فاطمہ لھکانی نے کہا کہ کھلاڑیوں سے وہ نظم و ضبط اور کھیل کے جذبے کی توقع رکھتی ہیں تاکہ وہ نہ صرف میڈلز کے لیے کوشاں ہوں بلکہ پاکستان کی بین الاقوامی شناخت کو بھی بہتر بنائیں۔
ٹیم کی جانب سے خواتین کرکٹ، ہاکی اور ٹینس کے ساتھ ساتھ ایشیائی گیمز میں پہلی بار حصہ لینے والے ٹرائاتھلون کھلاڑیوں کا بھی جاپان پہنچ چکا ہے۔ انہی میں ہنزہ، گلگت‑بلتستان سے انیشا علی شامل ہیں جو مکسڈ ریلی ایونٹ میں شرکت کریں گی۔ اس کے علاوہ پشاور سے تین بہنیں—مہنور علی، سحرش علی اور محوش علی—اور بہن سنا بہادر، جو بہری اور معیوب ہیں، خواتین سکوئش مقابلے میں حصہ لیں گی۔ فاطمہ لھکانی نے اس تنوع کو پاکستانی خواتین کی قابلیت اور حوصلے کی واضح مثال کے طور پر پیش کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایشیائی گیمز کے دوران کھلاڑیوں کی شائستگی اور اخلاقی معیار پر بھی خاص توجہ دی جائے گی۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستانی ایٹلیٹس اپنے ملک کی نمائندگی کرتے ہوئے دلوں میں جگہ بنائیں اور کھیلوں کے ذریعے عالمی برادری کے ساتھ مثبت رشتہ استوار کریں۔
فاطمہ لاکھانی کی قیادت کے تحت قومی ٹیم کی یہ پہلی خواتین سرکردہ مہم نہ صرف کھیلوں میں نئی بلندیوں کی طرف قدم بڑھائے گی بلکہ پاکستان میں خواتین کے بڑھتے ہوئے کردار کی بھی ایک واضح دلیل بنے گی۔




