پشاور (سٹاف رپورٹر) خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل افریدی نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ پُرامن، جمہوری اور آئینی جدوجہد پر مبنی ہو گا، اُسے آئین اور قانون کے دائرے میں کیا جائے گا۔
سہیل آفریدی نے آئینی بحالی، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور عوامی اقتصادی مطالبات پر زور دیا تاہم وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے عدالت کے فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی وارننگ دی۔
سہیل افریدی نے کہا کہ وہ اور اُن کی جماعت کسی تصادم کی خواہاں نہیں، اُن کا لانگ مارچ ’’پُرامن اور آئینی‘‘ رہے گا۔ اُنہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ یہ جدوجہد جمہوری، آئینی اور قانون کے اندر ہو گی اور ہر شہری کو اپنے بنیادی حقوق کے لیے پُرامن طور پر آواز اٹھانے اور اجتماع کرنے کا حق حاصل ہے۔
سہیل آفریدی نے بتایا کہ پی ٹی آئی کا قافلہ خیبرپختونخوا سے روانہ ہوگا جبکہ ملک کے دیگر حصوں سے آنے والے قافلے وفاقی دارالحکومت میں آ کر مرکزی قافلے میں شامل ہو جائیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مسلسل دھمکی آمیز بیانات کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے تشویش کا باعث ہیں اور اس کے بجائے عوامی مطالبات سننے چاہئیں۔
وزیراعلیٰ نے مطالبات کی فہرست میں آئین کی اصل حالت کی بحالی، سیاسی قیدیوں کی رہائی، نوجوانوں کے لیے روزگار، محنت کشوں کے معاشی حقوق اور کسانوں کو منصفانہ معاوضے کا مطالبہ شامل بتایا۔ اُن کے بقول اُن کے مطالبات واضح ہیں کہ آئین کی بحالی، حکمرانی قانون، سیاسی قیدیوں کی رہائی، بنیادی حقوق کا تحفظ اور عوام کی آواز کا احترام کرنا شامل ہیں۔
اُسی دن وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خبردار کیا کہ اگر کوئی اسلام آباد ہائیکورٹ (آئی ایچ سی) کے مفصل فیصلے کی خلاف ورزی کرے اور وفاقی دارالحکومت یا کسی صوبے میں بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کرے تو اُس کے خلاف قانونی کارروائی، بشمول عدالت کی توہین کے مقدمات، کی جائے گی۔
محسن نقوی نے جناح کنونشن سینٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ جو بھی عدالت کے فیصلے کی خلاف ورزی کرے اسے پہلے عدالتی کارروائی کا سامنا ہوگا اور دوسرا یہ کہ انتظامیہ ہر ممکن طریقے سے اُنہیں روکیں گے۔




