کراچی (کرائم رپورٹر) خاتون اور اُس کے تین بچوں کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا مجرم پولیس کے ساتھ ہونے والے مبینہ جھگڑے میں ہلاک ہو گیا ہے۔ پولیس کے مطابق مجرم کو ہتھیار کی برآمدگی کے لیے لے جایا جا رہا تھا جب اُس نے سب انسپکٹر (ایس آئی) نعیم شیخ سے ہتھیار چھین کر بھاگنے کی کوشش کی۔
ملزم محمد ہمایوں خان کو مبینہ آلہ قتل (آہنی راڈ ۔۔۔ وہ سریا جس کی مدد سے خاتون اور بچوں کو قتل کیا گیا تھا) کی برآمدگی کے لیے لے کر گئی۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ پولیس والے آلہ قتل یعنی (سریا) تلاش کرنے میں مصروف تھے کہ ملزم نے ایک اہلکار کا پستول چھین کر فرار ہونے کی کوشش کی، اُس نے اندھا دُھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک اہلکار زخمی ہوا، ملزم کی فائرنگ کے جواب میں پولیس نے گولی چلا کر ملزم موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔
ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ نے ایس ایس پی ویسٹ طارق الہٰی مستوئی اور ایس پی انویسٹی گیشن ویسٹ مسرور کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ گرفتار ملزم ہمایوں نے دوران تفتیش خاتون اور اُس کے تینوں بچوں کے قتل کا اعتراف کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم نے واردات کو ڈکیتی کا رنگ دینے اور شواہد مٹانے کی بھی کوشش کی۔ پولیس کے مطابق ہمایوں مقتولہ کے شوہر دانش کا بہنوئی ہے اور تقریباً ڈیڑھ سال قبل اِسی گھر کی بالائی منزل پر کرایہ دار کی حیثیت سے رہ چکا تھا تاہم بعدازاں دانش نے اُسے گھر سے نکال دیا تھا۔ ملزم کو گھر اور اہل خانہ کے معمولات کا علم تھا اور اسے معلوم تھا کہ واردات کے وقت دانش گھر پر موجود نہیں ہوگا۔
ڈی آئی جی ویسٹ کے مطابق واقعے کے روز ملزم دوپہر قریباً دو بجے دانش کے گھر پہنچا۔ ملزم نے گھر پہنچنے سے قبل اپنا موبائل فون بند کردیا تھا اور اپنی موٹر سائیکل بھی گھر پر چھوڑ کر چنگچی پر دانش کے گھر گیا۔ پولیس کے مطابق گھر پہنچنے پر ملزم نے مقتولہ مہوش کے ساتھ چائے پی۔ مقتولہ نے اُس سے کپڑوں کی سلائی کے لیے بازار سے بُکرم وغیرہ بھی منگوایا جس کے لیے وہ بازار گیا۔
محوش کے دو بچے مدرسے گئے ہوئے تھے، ملزم سامان لے کر واپس آیا تو خاتون اپنی شیرخوار بچی کے ساتھ گھر میں موجود تھی۔ تفتیش کے مطابق ملزم نے مبینہ طور پر خاتون سے زیادتی کی کوشش کی تاہم مزاحمت پر اُس نے مہوش کے سر پر آہنی راڈ سے وار کیے جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو کر جاں بحق ہو گئی۔ پولیس کے مطابق ماں پر حملے کے دوران قریب موجود تقریباً 18 ماہ کی شیرخوار بچی رونے لگی تو ملزم نے مبینہ طور پر بچی کا سر دیوار سے دے مارا جس سے وہ بھی جاں بحق ہو گئی۔
پولیس کے مطابق ملزم گھر کے واش روم میں جا کر ہاتھ دھو رہا تھا کہ اِسی دوران مدرسے سے دونوں بچے واپس آ گئے۔ ملزم نے خود دروازہ کھولا اور بچوں کے گھر میں داخل ہونے کے بعد مبینہ طور پر آہنی راڈ کے وار کر کے دونوں کو بھی قتل کر دیا۔ ڈی آئی جی ویسٹ کے مطابق ملزم تقریباً چار گھنٹے گھر میں موجود رہا اور اِس دوران چاروں افراد کو قتل کرنے کے بعد جائے وقوعہ کو صاف کرنے کی کوشش کی تاکہ واردات ڈکیتی معلوم ہو۔
پولیس کا کہنا تھا کہ ملزم نے گھر میں موجود شواہد مٹانے کی بھی کوشش کی۔ پولیس کے مطابق واردات کے بعد ملزم آلہ قتل اپنے ساتھ لے گیا اور سرجانی ٹاؤن سے نکلتے ہوئے ایک نالے میں آہنی راڈ پھینک دیا۔ ہتھیار چھیننے کے دوران ایک پولیس والے کو بازو میں گولی لگی جس کے بعد دیگر پولیس اہلکاروں نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ملزم موقع پر ہی دم توڑ گیا۔




