راولپنڈی (سٹاف رپورٹر) وفاقی وزیر برائے قانون اور انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ فیڈرل کانسٹی ٹیوشنل کورٹ (ایف سی سی) اور سپریم کورٹ کے اختیارات آئین میں واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں۔ہی۔
لاہور ہائیکورٹ (ایل ایچ سی) بار ایسوسی ایشن، راولپنڈی بنچ کی تقریب سے خطاب کے دوران اُنہوں نے کہا کہ ایف سی سی اور سپریم کورٹ کے مابین اختیارات اور دائرہ کار میں کسی قسم کی ابہام کی بات درست نہیں ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے تحت آئینی عدالت قائم کرنے کا مقصد آئینی تشریحات کو ایک مخصوص فورم پر مرکوز کرنا اور عدالتی تشریح میں یکسانیت کو یقینی بنانا تھا۔
وزیر نے کہا کہ دو دہائی پہلے حاصل ہونے والے اسباق 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم میں منعکس ہیں، پاکستان چونکہ ایک وفاق ہے اِس لیے آئین کی تشریح کا ایک مربوط نظام ضروری ہے۔
اُن کے مطابق اِس بحث کو مزید پیچیدہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے جب آئینی عدالت کا قیام اور اِس کے دائرہ کار کا آئینی فریم ورک واضح طور پر طے کیا جا چکا ہے۔




