راولپنڈی اور اسلام آباد کی انتظامیہ نے 20 سے 27 ستمبر تک متوقع چار لانگ مارچز کے باعث سیکیورٹی اور انتظامی تیاریوں کو حتمی شکل دے دی ہے۔
راولپنڈی اور اسلام آباد کی انتظامیہ نے آئندہ چند روز میں متوقع چار لانگ مارچز کے پیشِ نظر سخت انتظامات کر لیے ہیں۔ The Express Tribune کے مطابق راولپنڈی میں تعلیمی ادارے، کالج، یونیورسٹیاں، ہوٹل، موٹلز، ریسٹ ہاؤسز، سرائے، مارکیٹس اور ٹرانسپورٹ ٹرمینلز بند رکھے جائیں گے، جبکہ موبائل انٹرنیٹ سروسز بھی معطل کی جائیں گی۔
رپورٹ کے مطابق راولپنڈی کے سیف سٹی پروجیکٹ کے 1,500 کیمرے فعال کر دیے گئے ہیں، اور ایڈھی مراکز کو بھی الرٹ رکھا گیا ہے۔ عدالتی پیشیوں کے حوالے سے بھی انتظامات کیے گئے ہیں، اور کہا گیا ہے کہ اگلے ہفتے راولپنڈی اور اسلام آباد کی عدالتوں میں زیرِ حراست افراد کو پیش نہیں کیا جائے گا۔
خبر کے مطابق جماعتِ اسلامی کا لانگ مارچ 20 ستمبر کو کراچی سے شروع ہوگا، جب کہ حافظ نعیم الرحمٰن 22 ستمبر کو راولپنڈی پہنچنے کے لیے ٹرین مارچ کے ذریعے روانہ ہوں گے۔ اسی تناظر میں عوامی سرگرمیوں اور ٹریفک پر بھی شدید اثرات متوقع ہیں۔
Dawn اور Express Tribune کی آج کی متعلقہ رپورٹنگ کے مطابق جماعتِ اسلامی اور حکومت کے درمیان مذاکرات بھی کسی نتیجے کے بغیر ختم ہوئے، جس کے بعد مارچ کے پروگرام میں تبدیلی کے بجائے کشیدگی برقرار رہی۔




