نیتن یاہو کی UN تقریر خالی ہال, 77 ممالک کا واک آؤٹ
نیویارک میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی 2026 کے اجلاس کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی تقریر عالمی سفارتی توجہ کا مرکز بن گئی، جب اسرائیلی ذرائع کے مطابق 77 ممالک کے وفود یا تو ہال سے باہر چلے گئے یا تقریر کے آغاز پر اپنی نشستوں پر موجود نہیں تھے۔ اقوام متحدہ کے مطابق 81ویں جنرل اسمبلی کا ہائی لیول ویک 22 سے 28 ستمبر تک جاری ہے۔
اسرائیلی رپورٹ کے مطابق واک آؤٹ یا عدم موجودگی میں مصر، اردن، سعودی عرب، ترکیہ، ایران، پاکستان، قطر، کویت، عمان، جنوبی افریقہ، اسپین، برازیل اور انڈونیشیا سمیت مختلف خطوں کے ممالک شامل تھے۔ تاہم 77 کی تعداد میں ایسے ممالک بھی شامل ہیں جن کے نمائندے اجلاس کے اس حصے میں موجود ہی نہیں تھے، اس لیے ہر غیرحاضری کو باقاعدہ احتجاج قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
اس کے برعکس متحدہ عرب امارات اور بحرین کے سفارتی نمائندے اپنی نشستوں پر موجود رہے اور نیتن یاہو کی تقریر سنی۔ دونوں ممالک نے 2020 میں اسرائیل کے ساتھ ابراہام معاہدوں (Abraham Accords) کے تحت سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔ اسرائیلی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ دونوں ملکوں کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں غزہ جنگ کے باعث تناؤ موجود ہے، تاہم ان کے نمائندے تقریر کے دوران ہال میں رہے۔
مراکش کا معاملہ بھی اہم ہے۔ اقوام متحدہ کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق 81ویں سیشن میں مراکش جنرل اسمبلی ہال کی پہلی نشست پر ہے، تاہم دستیاب تازہ رپورٹ میں اسے 77 ممالک کی عدم موجودگی والی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔
یوں نیتن یاہو کی تقریر کے دوران خالی ہوتی نشستوں کا منظر عالمی سفارت کاری میں نمایاں رہا، مگر مختلف وفود کی غیرحاضری کی وجوہات ایک جیسی نہیں تھیں۔




