آئی ایم ایف نے ایف بی آر کو گریڈ 17 سے 22 کے تمام سرکاری ملازمین کے بینک اکاؤنٹس تک براہِ راست رسائی دینے کا حکم دیا

پاکستان آئی ایم ایف سے منسلک حکمرانی اور شفافیت کے اصلاحاتی اقدامات کے تحت اعلیٰ سرکاری افسران کے لیے ڈیجیٹل اثاثوں کے اظہار اور خطرے کی بنیاد پر جانچ پڑتال کے دائرہ کار کو وسیع کر رہا ہے۔

گریڈ 17 تا 22 افسران کے بینک اکاؤنٹس تک براہِ راست رسائی کا حکم

پاکستان میں (آئی ایم ایف) اصلاحات، (ایف بی آر) اور اعلیٰ سرکاری افسران کے اثاثوں سے متعلق ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ تاہم دستیاب تازہ سرکاری اور معتبر ذرائع کے مطابق یہ کہنا درست نہیں کہ (آئی ایم ایف) نے سادہ الفاظ میں (ایف بی آر) کو گریڈ 17 سے 22 کے تمام سرکاری ملازمین کے بینک اکاؤنٹس تک براہِ راست رسائی دینے کا حتمی حکم دیا ہے۔اصل معاملہ اثاثہ جات کے ڈیجیٹل ڈیکلریشن، بینکوں کی (اے ایم ایل / سی ایف ٹی) ضروریات اور رسک بیسڈ ویری فکیشن سے متعلق ہے۔ (آئی ایم ایف) کی اپریل 2026 کی پاکستان رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ BPS-17 تا 22 کے اعلیٰ وفاقی سرکاری افسران کے اثاثوں کے گوشواروں تک بینکوں کی رسائی جاری رکھی جائے گی، جبکہ (ایف بی آر) نے بعد میں اس دائرے کو وفاقی و صوبائی حکومتوں، خودمختار اداروں اور سرکاری کمپنیوں کے افسران تک وسیع کرنے کے لیے نوٹیفکیشن جاری کیا۔
اس اصلاح کا تاریخی پس منظر پاکستان کے ٹیکس بیس، اثاثہ جات کی شفافیت اور انسدادِ منی لانڈرنگ کے مسائل سے جڑا ہے۔ 2025 کے (آئی ایم ایف) پروگرام میں پاکستان نے اعلیٰ سرکاری افسران کے اثاثہ جات کی ڈیجیٹل فائلنگ اور عوامی رسائی کا فریم ورک بنانے کا وعدہ کیا تھا، تاہم ذاتی معلومات، بینک اکاؤنٹ نمبرز اور رہائشی پتوں جیسے حساس ڈیٹا کے تحفظ کی شرط بھی رکھی گئی تھی۔تازہ صورتحال میں حکومت نے BS-17 اور اس سے اوپر کے افسران کے لیے مالی سال 2025-26 کے آمدن اور اثاثوں کے گوشوارے (ایف بی آر) کے مخصوص ڈیجیٹل پورٹل پر جمع کرانے کا نظام متعارف کرایا ہے۔ (ایف بی آر) ان معلومات پر خطرے پر مبنی تصدیق کرے گا۔ حکومت نے دسمبر 2026 تک ان گوشواروں کے منتخب غیر حساس حصے عوام کے سامنے رکھنے کا منصوبہ بھی بتایا ہے۔

یہاں بنیادی بحث شفافیت بمقابلہ رازداری کی ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں ارکان نے سوال اٹھایا کہ اگر سیاست دانوں کے اثاثے ظاہر کیے جاتے ہیں تو سرکاری افسران کے لیے بھی مکمل شفافیت کیوں نہ ہو۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ سکیورٹی اور ذاتی معلومات کے تحفظ کے باعث صرف منتخب معلومات جاری کی جائیں گی۔ لہٰذا موجودہ اصلاح کو “(ایف بی آر) کو ہر افسر کے بینک اکاؤنٹ کا کھلا اختیار” قرار دینے کے بجائے اثاثہ جات کی ڈیجیٹل نگرانی، مالیاتی اداروں کی مناسب جانچ پڑتال اور رسک بیسڈ تصدیق کے وسیع تر نظام کے طور پر سمجھنا زیادہ درست ہے۔

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 356