پاکستان کی یمن میں بڑھتی عسکری مدد، سعودی اتحاد کے ساتھ نیا مرحلہ
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان نے ستمبر 2026 میں چار کارگو طیاروں کے ذریعے فوجی سازوسامان یمن کے شہر عدن پہنچایا، جہاں سعودی حمایت یافتہ اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کا مرکز موجود ہے۔ ایک پاکستانی حکومتی عہدیدار کے مطابق سامان میں فضائی دفاعی نظام، ہلکی توپ خانے کی صلاحیت، ڈرونز اور اینٹی ڈرون سسٹمز شامل تھے۔ ایک دوسرے پاکستانی عہدیدار، خلیجی ذریعے اور مغربی سفارت کار کے مطابق پاکستانی فوجی مشیر بھی سعودی اہلکاروں کے ساتھ یمنی فورسز کی معاونت کر رہے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سعودی عرب حوثیوں کے خلاف ممکنہ نئے بڑے آپریشن کی تیاری کر رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ریاض باب المندب اور بحیرۂ احمر کی جہازرانی پر حوثیوں کے دباؤ کو ختم کرنے کے لیے محدود ساحلی کارروائی یا متعدد محاذوں پر وسیع آپریشن کے آپشنز پر غور کر رہا ہے۔
تاریخی تناظر
پاکستان کا یمن کے معاملے میں براہِ راست جنگی کردار ہمیشہ حساس رہا ہے۔ 2015 میں سعودی قیادت میں یمن آپریشن شروع ہونے کے بعد پاکستان کی پارلیمان نے پاکستانی فوج کو یمن کی جنگ میں براہِ راست بھیجنے سے گریز اور سفارتی حل کی حمایت کی تھی۔ موجودہ صورتحال اس پالیسی کے مقابلے میں ایک مختلف نوعیت کا مرحلہ دکھاتی ہے: اسلام آباد سعودی عرب کی دفاعی ضروریات میں تعاون بڑھا رہا ہے، لیکن دستیاب رپورٹ کے مطابق پاکستان نے یمن میں جنگی کردار ادا کرنے کے لیے فوج بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ رائٹرز کے مطابق سعودی عرب میں 30,000 سے 40,000 پاکستانی اہلکار دفاعی مقاصد اور میزائل و ڈرون خطرات سے نمٹنے کے لیے موجود ہیں۔
یہ تبدیلی 7 اگست 2026 کے مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدے کے تناظر میں بھی اہم ہے، جس کے تحت پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں کے خلاف حملہ تصور کرنے کا اصول اپنایا۔ تاہم پاکستان نے ساتھ ہی یمن میں کشیدگی کم کرنے اور سیاسی مذاکرات کی حمایت جاری رکھی ہے۔ 2 اکتوبر کو وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ مکہ معاہدے کے تینوں ممالک حوثیوں سے سیاسی رابطے کی ایرانی تجویز پر غور کے لیے ریاض میں ہنگامی اجلاس کریں گے۔



