اسلام آباد ( ویب ڈیسک) کے پی حکومت نے تحریری معاہدے پر اتفاق کیا اور 72 گھنٹوں میں نفاذ کا منصوبہ جمع کرانے کا وعدہ کیا، جس میں سکیورٹی صورت حال کے پیشِ نظر پولیس ایکٹ 2026 پر دوبارہ غور اور دہشت گردوں کی کارروائیوں کی روک تھام شامل تھی۔
کے پی حکومت نے ایک تحریری معاہدے پر متفق ہونے کے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ وہ 72 گھنٹوں کے اندر ایک تفصیلی نفاذ منصوبہ جمع کرائے گی۔ سورس کے مطابق یہ منصوبہ خصوصاً دو اہم نکات کا احاطہ کرے گا، سکیورٹی صورتِ حال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پولیس ایکٹ 2026 پر دوبارہ غور اور سکیورٹی معاملات کو سیاسی مداخلت سے محفوظ رکھنے کی ضرورت؛ نیز دہشت گردوں کو کارروائی کی اجازت نہ دینے کے اقدامات شامل ہوں گے۔
دستاویز کے خلاصے میں بتایا گیا ہے کہ معاہدے اور منصوبے کا مقصد پولیس قانون اور سکیورٹی ڈھانچے کو نئی مخاصمتوں اور حالیہ خطرات کے مطابق بہتر بنانا ہے۔ معاہدے کے تحت متوقع سازو سامان، قانون سازی میں ترامیم یا انتظامی اقدامات کا خاکہ نفاذ منصوبے میں دیا جا سکتا ہے، تاہم سورس میں منصوبے کے تفصیلی اقدامات یا مروّجہ زمانی حدود کے علاوہ مزید مخصوص جزئیات شامل نہیں کی گئیں۔
سرکاری ذرائع کے حوالہ سےسامنے آنے والے بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ یہ اقدام سکیورٹی امور میں شفافیت اور سیاسی مداخلت کم کرنے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے، اور دہشت گردی کے خطرے کو محدود رکھنے کے عملی اقدامات کی توقع کی جا رہی ہے۔




