(بی بی سی اردو) موزمبیق میں رہنے والی ایک بڑی جنوبی ایشیائی برادری میں کچھ افراد کو سنہ 1947 کے بعد پاکستانی شہریت اور پاسپورٹ جاری کیے گئے، تاہم ان میں سے بیشتر نے ممکنہ طور پر کبھی پاکستان کا دورہ نہیں کیا یا وہاں کی زبانیں تک نہیں بولتیں۔
موزمبیق میں رہنے والی ایک قدیم جنوبی ایشیائی برادری کی تاریخ صدیوں پرانی سمندری تجارت سے جڑی ہے، جب بحرِ ہند کی مون سون ہواؤں نے ہندوستانی تاجروں کو مشرقی افریقہ کے ساحل تک پہنچایا۔ تاریخی اور تحقیقی حوالوں کے مطابق ان میں گجراتی تاجر، خصوصاً کَچھ، دِیو اور دَمن کے باشندے شامل تھے جن کی آمد انیسویں صدی میں بڑھی۔
بی بی سی اردو کے ماخذ میں جاری تحقیقاتی روداد کے مطابق سنہ 1950 کی دہائی تک کاجو اور دیگر اشیا کی تجارت نے ان برادریوں کو مضبوط کیا اور دہائی کے اختتام تک ان کی تعداد تقریبا 12,000 تک پہنچ گئی۔ پرتگالی نوآبادیاتی دور میں تجارتی روابط اور مقامی معاشی شراکت نے ان کمیونٹیز کو موزمبیق کی معیشت کا اہم حصہ بنا دیا۔
برصغیر کی تقسیم نے ان افراد کے سامنے قومی شناخت کا سوال کھڑا کر دیا۔ کچھ مسلمانوں نے پاکستانی شہریت اختیار کی جبکہ زیادہ تر ہندوؤں نے انڈین شہریت اختیار کی۔ پاک سفارتی دستاویزات اور یادداشتوں کے حوالے سے ملنے والی معلومات کے مطابق جن مسلمانوں نے پاکستانی شہریت کی درخواست کی، ان کی نمائندہ وفود نے صدر جنرل محمد ایوب خان سے ملاقات کی اور ان کی درخواست منظور ہو گئی۔ اس حکم کے تحت ’ہندوستانی پس منظر رکھنے والے وہ تمام مسلمان جو پاکستانی بننا چاہتے تھے‘ تنزانیہ میں پاکستانی مشن سے رابطہ کر کے پاسپورٹ حاصل کر سکتے تھے۔
تاہم بعض سفارتی یادداشتوں میں یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ موزمبیق میں پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کا واضح ریکارڈ محدود یا کم معلوم تھا، اور بہت سے خاندان دراصل پرتگالی زبان اور گجراتی بولتے تھے، جبکہ کئی نسلوں نے خود کبھی پاکستان نہیں دیکھا۔ نتیجتاً پاکستانی شہریت اس برادری کے لیے محض رسمی شناخت سے بڑھ کر تاریخی، سیاسی اور سکیورٹی کے تقاضوں کے باعث اختیار کی گئی۔
ماخذ کے مطابق پرتگالی نوآبادیاتی پالیسیوں، جنوبی افریقہ میں بڑھتی ہوئی مخالفت اور بین الاقوامی سیاسی تبدیلیوں نے اس خطے میں رہنے والی جنوبی ایشیائی برادریوں کی نقل و حرکت اور شہریت کے انتخاب کو متاثر کیا۔ آج بھی موزمبیق میں ایسے خاندان موجود ہیں جن کی جڑیں صدیوں پرانی ہیں مگر ان کا پاکستان سے براہِ راست عملی تعلق محدود یا غیر موجود ہے۔



