کینیڈا نے ’امریکہ کے ممکنہ حملے‘ کے منظرنامے کے لیے فوجی مشقیں اور منصوبہ بندی شروع کی: مارک کارنی

مارک کارنی نے کہا ہے کہ کینیڈا نے امریکہ کی جانب سے ممکنہ حملے کے غیر متوقع منظرنامے کے لیے فوجی مشقیں اور منصوبہ بندی شروع کی ہیں، حالانکہ ماہرین اس امکان کو بہت کم قرار دے رہے ہیں۔

(بی بی سی اردو) کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے ایک ایسے غیر متوقع منظرنامے کی تیاری شروع کی ہے جس میں امریکہ کینیڈا پر حملہ کر دے، حالانکہ ماہرین اس خطرے کو ‘بہت کم’ قرار دے رہے ہیں۔

کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے بی بی سی سے بات میں کہا ہے کہ اگرچہ امریکہ کی جانب سے کینیڈا پر حملے کا امکان بہت کم اور انتہائی غیر متوقع ہے، پھر بھی حالیہ سفارتی اور تجارتی کشیدگی کے پیش نظر ملک نے اس طرح کے منظرناموں پر پیشگی تیاری شروع کر رکھی ہے۔

کارنی نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت میں دونوں ملکوں کے تعلقات جس طرح بدل رہے ہیں، اس کے تناظر میں ‘تمام ممکنہ صورتِ حال پر غور کرنا’ ان کی ذمہ داری ہے اور یہ ‘خطرات کے انتظام’ کا حصہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ تیاری ایک متبادل یا فوری اندازِ جنگ کا اشارہ نہیں بلکہ دفاعی منصوبہ بندی اور مشقوں پر مبنی ہے۔

بی بی سی آرٹیکل کے مطابق کینیڈا نے ٹرمپ کی جانب سے عالمی محصولات عائد کرنے اور کینیڈا کو ‘امریکہ کی 51ویں ریاست’ بنانے جیسی بار بار کی خواہشات کے بعد فوجی مشقوں اور منصوبہ بندی کے ذریعے امریکی حملے کے ممکنہ منظرنامے پر غور کیا ہے۔ البتہ فوجی ماہرین اور تجزیہ کار یہ کہتے ہیں کہ حقیقی خطرہ بہت کم ہے اور دونوں ممالک دفاع اور انٹیلی جنس کے کئی شعبوں میں گہرا تعاون کرتے ہیں۔

کینیڈین رائل ایئر فورس کے سابق افسر لیفٹیننٹ جنرل کرسٹوفر کوٹس نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے 34 سالہ کیریئر میں انہوں نے کبھی اس امکان پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا کہ امریکی سرزمین سے کینیڈا پر براہِ راست فوجی حملہ ہو سکتا ہے، اور دونوں ممالک شمالی بحرِ اوقیانوس کے دفاعی اتحاد نیٹو اور نارتھ امریکن ایرو اسپیس ڈیفنس کمانڈ کے تحت مشترکہ مشنز انجام دیتے ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ اگر کبھی ایسی صورتِ حال سامنے بھی آئے تو اس کا آغاز براہِ راست فوجی کارروائی کے بجائے زیادہ خاموش طریقوں سے، مثلاً سائبر حملوں یا اقتصادی دباؤ کے ذریعے ہو سکتا ہے۔ سروے کے اعداد و شمار بھی دکھاتے ہیں کہ بعض مواقع پر عام عوام میں خدشات بڑھتے ہیں؛ مثال کے طور پر ایک سروے میں جنوری میں 30 فیصد سے زائد کینیڈین شہریوں نے کہا تھا کہ انھیں امریکی حملے کا امکان دکھائی دیتا ہے۔

حاصلِ کلام یہ ہے کہ کینیڈا کی یہ تیاری ایک احتیاطی دفاعی قدم کے طور پر سامنے آئی ہے، جبکہ عمومی سکیورٹی تجزیے اور بین الاقوامی دفاعی وابستگی اس امکان کو فی الوقت محدود قرار دیتے ہیں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2795