(بی بی سی اردو) فوڈ سیفٹی اینڈ سٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) نے خبردار کیا ہے کہ سموسے اور پکوڑے جیسے گرم تلے ہوئے کھانے کو اخبار یا کسی چھپی ہوئی کاغذ پر رکھ کر پیش کرنا صحت کے لیے
بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق فوڈ سیفٹی اینڈ سٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) نے دوہری ہدایت جاری کی ہے کہ گلی بازاروں اور ریڑھیوں پر فروخت ہونے والے گرم کھانے کو اخبار یا کسی ایسے کاغذ میں لپیٹ کر نہ دیا جائے جس پر چھپائی ہوئی ہو۔ ادارے نے کہا ہے کہ چھپائی میں استعمال ہونے والی سیاہی میں مضر کیمیکلز اور بھاری دھاتیں شامل ہو سکتی ہیں جو گرم کھانے کے ساتھ کھانے میں منتقل ہو جاتی ہیں۔
ماہرینِ صحت نے بی بی سی کو بتایا کہ اخبار کی سیاہی میں شامل مادوں میں سے سیسہ جیسے اجزا جسم میں جذب ہو کر جگر اور دیگر اعضاء کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ کرنول میڈیکل کالج کے ڈاکٹر شیام پرساد نے بی بی سی کو بتایا کہ “چھپائی میں استعمال ہونے والی سیاہی میں سیسہ نامی ایک دھات شامل ہوتی ہے۔ یہ کھانے کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر جگر کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔”
رپورٹ میں ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ اخبارات کئی لوگوں کے ہاتھوں سے گزرتے ہیں اور ان پر گرد، جراثیم اور دیگر گندگی جمع ہو سکتی ہے، لہٰذا ایسے کاغذ پر رکھا ہوا کھانا بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ بچوں اور حاملہ خواتین پر اس عادت کے خاص طور پر مضر اثرات مرتب ہونے کا خدشہ زیادہ ہے۔ ڈاکٹر شیام پرساد نے کہا کہ حاملہ خواتین کے لیے چھپے ہوئے کاغذ میں لپٹا کھانا ‘‘بالکل نہیں’’ کھانا چاہیے کیونکہ اس کے نتیجے میں حمل ضائع ہونے یا بچے کی نشوونما متاثر ہونے کے خطرات ہو سکتے ہیں۔
ایف ایس ایس اے آئی نے کھانے فروخت کرنے والے کاروباری اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ صرف محفوظ اور سرکاری طور پر منظور شدہ فوڈ گریڈ پیکیجنگ استعمال کریں۔ قواعد وضوابط میں واضح کیا گیا ہے کہ کھانا رکھنے والی اشیاء، پیپر، ڈبے، پلیٹیں اور کپ ایسے مواد سے بنے ہوں جو فوڈ گریڈ معیار کے مطابق ہوں اور جن میں مضر یا بیماری پیدا کرنے والے اجزا نہ ہوں۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ماہرین صارفین کو بھی خبردار کرتے ہیں کہ وہ نہ صرف بازاروں میں بلکہ گھروں میں بھی کھانے کو اخبار میں نہ رکھیں اور پیکنگ کے لیے ہمیشہ منظور شدہ، صاف ستھرا اور فوڈ گریڈ مواد استعمال کریں۔




