روس کا افغانستان میں نیا سکیورٹی کردار، پاکستان کے لیے اہم اشارہ
“عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان کے حوالے سے ماسکو کی نئی سکیورٹی پالیسی کا واضح خاکہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان سکیورٹی فورسز داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف ’بے لچک جنگ‘ لڑ رہی ہیں اور کابل کی انسدادِ دہشت گردی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا روس سمیت خطے کے ممالک کے مشترکہ مفاد میں ہے۔”
“لاوروف کے مطابق افغانستان کو مادی، تکنیکی اور ماہرین کی معاونت فراہم کرنے کے ساتھ انٹیلی جنس اور سکیورٹی اداروں کے درمیان رابطے برقرار رکھنا ضروری ہے۔” یہ بیان اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ماسکو طالبان حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات کو محض سیاسی رابطوں تک محدود رکھنے کے بجائے سکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی تعاون کی طرف بڑھانا چاہتا ہے۔
یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کہ روس نے 2025 میں طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا، جبکہ اب ماسکو کابل کو علاقائی سکیورٹی کے ایک ممکنہ شراکت دار کے طور پر پیش کررہا ہے۔ لاوروف نے ساتھ ہی افغانستان یا اس کے ہمسایہ ممالک میں کسی بھی نئی NATO فوجی موجودگی کو ناقابل قبول قرار دیا، جس سے روس اور مغرب کے درمیان افغانستان پر جغرافیائی سیاسی مقابلہ بھی نمایاں ہوتا ہے۔
“پاکستان کے لیے اصل تشویش دہشت گردی کا مسئلہ ہے۔” ماسکو فارمیٹ اجلاس میں پاکستانی نمائندے محمد صادق نے واضح کیا کہ افغانستان سے پیدا ہونے والی دہشت گردی پاکستان کے لیے بنیادی سکیورٹی خطرہ ہے اور کابل سے ٹی ٹی پی سمیت دہشت گرد گروہوں کے خلاف قابلِ تصدیق اقدامات کا مطالبہ کیا۔ پاکستانی اور افغان نمائندوں کے اختلافات کے باعث اجلاس مشترکہ اعلامیہ بھی جاری نہ کرسکا۔
یوں روس کا پیغام دو سطحوں پر سامنے آتا ہے: “کابل کو مضبوط کرو، مگر مغربی فوجی موجودگی کو واپس نہ آنے دو۔” پاکستان کے لیے یہ صورتحال ایک پیچیدہ توازن پیدا کرتی ہے، کیونکہ اسلام آباد بھی افغانستان میں دہشت گردی کے خاتمے کا خواہاں ہے، لیکن اس کے لیے محض طالبان کی سکیورٹی صلاحیت بڑھانا کافی نہیں؛ سرحد پار عسکریت پسند گروہوں کے خلاف قابلِ عمل اور قابلِ تصدیق کارروائی بنیادی شرط ہے۔




