خامنہ ای کا قتل غلطی تھا، اسرائیلی اپوزیشن رہنما کا اہم بیان
” عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو قتل کرنا ایک غلطی تھی۔” اسرائیل کی اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس کے سربراہ یائر گولان نے 9 اکتوبر کو ریشون لتسیون میں منعقدہ عوامی مباحثے ’’شیشی تربوت‘‘ میں یہ بیان دیتے ہوئے اسرائیلی فوجی حکمتِ عملی پر سوال اٹھایا۔ ان کے مطابق، یہ فیصلہ اس لیے غلط تھا کہ اس سے اسرائیل کے قومی مفادات کو فائدہ نہیں پہنچا۔
گولان نے کہا کہ ایک عمر رسیدہ رہنما کی موجودگی بعض حالات میں اسرائیل کے لیے فائدہ مند بھی ہو سکتی تھی۔ ان کے بقول، خامنہ ای کے بیٹے اور جانشین پر ایران کی سخت گیر سکیورٹی قیادت کا اثر زیادہ ہے۔ انہوں نے اسرائیلی فوجی کارروائی ’’شاؤگت ہا اری‘‘ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس نے اسرائیل کی صورتِ حال بہتر بنانے کے بجائے مزید پیچیدہ کر دی۔
“اس بیان کی اہمیت اس لیے بڑھ جاتی ہے کہ گولان پہلے خامنہ ای کے قتل کو اسرائیل اور امریکا کی انٹیلی جنس و فوجی صلاحیت کا اہم مظاہرہ قرار دے چکے تھے۔” اپریل میں انہوں نے اس کارروائی کو اسرائیلی سلامتی کے لیے غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہر مسئلے کا حل فوجی طاقت نہیں۔ تازہ بیان ان کے اسی تنقیدی مؤقف کی مزید وضاحت کرتا ہے، اگرچہ ان کے پہلے اور بعد کے بیانات کے لہجے میں واضح فرق ہے۔
گولان نے ایران پر ممکنہ نئے حملے کے حوالے سے بھی کہا کہ ان کے اندازے میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی فوجی کارروائی کی آزادی فی الحال محدود ہے۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کے اندر بھی ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے نتائج اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر اتفاقِ رائے نہیں۔




