راولپنڈی (سٹاف رپورٹر) لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے تخت پری جنگل کے درختوں اور نئِت لگائے گئے پودوں کو مسلسل پانی فراہم کرنے اور تجاوزات، غیر قانونی قطعِ درخت اور آتشزدگی کے مرتکب افراد کے خلاف فوری قانونی کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ کے جج جسٹس جواد حسن نے تحریری فیصلے میں محکمہ جنگلات کو تخت پری جنگل کی حفاظت کے لیے اقدامات کی ہدایت کی۔ عدالتی فیصلے میں محکمہ کو ہدایت کی گئی کہ پودوں اور لگائے گئے درختوں کو بلا تعطل پانی فراہم کیا جائے، باقاعدہ گشت اور نگرانی یقینی بنائی جائے اور جنگل کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف بروقت قانونی کاروائی کی جائے۔
فیصلے میں عدالت نے کہا کہ جنگلات عوام اور ریاست دونوں کی مشترکہ میراث ہیں اور موسمیاتی تبدیلی مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ حاضرہ حقیقت بن چکی ہے، اس لیے آئندہ نسلوں کو نقصان سے بچانے کے لیے عدالت کا بھی کردار ہے۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق یہ حکم درخواست گزار محمد رومیز کی دائر کردہ پٹیشن پر جاری کیا گیا، جنہوں نے تخت پری جنگل کے تحفظ کے اقدامات مانگے تھے۔
عدالت نے محکمہ جنگلات اور دیگر متعلقہ فریقین کی کوششوں کی تعریف بھی کی اور واضح کیا کہ جنگل کی زمین پر غیر مجاز قبضہ یا غیر مجاز استعمال برداشت نہیں کیا جائے گا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ جنگل میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف قانون کے مطابق فوری قدم اٹھائے جائیں اور درختوں کی کٹائی یا جنگل میں آتشزدگی جیسی وارداتوں میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی جائے۔
عدالتی کارروائی کے دوران محکمہ جنگلات نے عدالت کو بتایا کہ تخت پری جنگل میں پنجاب کے چیف منیجر کے پودا کاری مہم کے تحت 46,000 درخت لگائے گئے ہیں۔ عدالت نے جنگل کی حفاظت اور پودوں کی مناسب دیکھ بھال کے حوالے سے سخت نگرانی اور عمل درآمد کے لیے متعلقہ اداروں کو پابند کیا۔
ماخذِ درخواست اور عدالت کے احکامات کے مطابق آئندہ عدالت متعلقہ فریقین کی پیش رفت کا نوٹس لے سکتی ہے اگر ہدایات پر عمل درآمد میں کمی دیکھی گئی تو مزید قانونی اقدامات کا حوالہ دیا گیا ہے۔



