استنبول (مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ترکیہ نے قومی دفاع اور حساس معلومات کے تحفظ کے لیے اپنے چار اہم دفاعی اداروں کی تنصیبات میں غیر ملکی ساختہ الیکٹرک گاڑیوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ان اداروں میں (ایسیلسان)، روکیٹسان، ہیولسان اور توساش انجن انڈسٹریز (TEI) شامل ہیں۔ ہوئے TEI کے جنرل منیجر محمود فاروق آقشیت نے جدید گاڑیوں میں نصب کیمروں، سینسرز اور سافٹ ویئر سے پیدا ہونے والے ممکنہ سکیورٹی خطرات کی نشاندہی کی۔
آقشیت کے مطابق، جدید الیکٹرک گاڑیاں اپنے اردگرد کے ماحول کا ڈیٹا جمع کرنے اور مقامات کی نقشہ سازی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کے بقول، اگر گاڑیوں کے سافٹ ویئر اور کنٹرول پر مقامی اداروں کا اختیار نہ ہو تو حساس مقامات کے ڈیٹا اور گاڑیوں کے ممکنہ ریموٹ کنٹرول کے حوالے سے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ متعلقہ اداروں میں مقامی ساختہ گاڑیوں کو داخلے کی اجازت دی جا رہی ہے، کیونکہ ان کے سافٹ ویئر اور کنٹرول پر ملکی اختیار زیادہ قابلِ اعتماد سمجھا جاتا ہے۔
ترکیہ کا یہ اقدام الگ تھلگ نہیں۔ پولینڈ، برطانیہ اور اسرائیل میں بھی حساس فوجی مقامات یا اہلکاروں کی گاڑیوں کے حوالے سے اسی نوعیت کی پابندیوں اور حفاظتی اقدامات کی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قومی سلامتی کے ادارے اب گاڑیوں کو بھی ممکنہ ڈیٹا سکیورٹی خطرے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
اس فیصلے سے دفاعی تنصیبات کے تحفظ کے لیے احتیاطی تدابیر مضبوط ہو سکتی ہیں، تاہم غیر ملکی گاڑیوں پر عمومی پابندی کے بجائے سافٹ ویئر آڈٹ، ڈیٹا کے بہاؤ کی جانچ اور واضح حفاظتی معیار بھی اہم ہیں۔ فی الحال یہ خدشات ممکنہ خطرات سے متعلق ہیں؛ دستیاب رپورٹ میں کسی مخصوص گاڑی کے ذریعے جاسوسی یا سائبر حملے کا ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔




