ایران کے زمینی تجارتی راستے بند کرنے کے لیے امریکہ ترکیہ اور پاکستان کے ساتھ کام کرے گا

اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق امریکہ پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ ایران کے زمینی تجارتی راستے بند کرنے پر کام کر رہا ہے۔ ایک ارب ڈالر کی کرپٹو ضبطی اور پاکستان کی تجارتی پالیسی کے ممکنہ اثرات کا تجزیہ۔

ایران کی معاشی ناکہ بندی: امریکہ کی پاکستان اور ترکیہ سے توقعات

واشنگٹن (ویب ڈیسک) عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے تازہ بیان نے ایران کے خلاف واشنگٹن کی معاشی حکمتِ عملی میں ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کی ہے۔ بیسنٹ کے مطابق، امریکہ ترکیہ اور پاکستان کے ساتھ مل کر ایران کے زمینی تجارتی راستے بند کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے اس حکمتِ عملی کو ’’مکمل تنہائی کی مہم‘‘ قرار دیا اور کہا کہ واشنگٹن ایران سے منسلک تقریباً ایک ارب ڈالر کی کرپٹو کرنسی بھی ضبط کر سکتا ہے۔

امریکی حکام کا مقصد ایران کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی، مالیاتی نیٹ ورکس، ڈیجیٹل اثاثوں اور سرحد پار تجارت کو محدود کرکے تہران پر مذاکرات کے لیے دباؤ بڑھانا ہے۔ امریکی محکمۂ خزانہ پہلے ہی ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘‘ کے تحت ایران سے منسلک مالیاتی اور تجارتی نیٹ ورکس کو نشانہ بنانے کا اعلان کر چکا ہے۔

اپریل میں پاکستان نے ایران کے لیے چھ زمینی تجارتی راستے متعارف کرائے تھے تاکہ بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث متاثر ہونے والی تجارت کو متبادل سہولت مل سکے۔ اگر واشنگٹن واقعی ان راستوں کی بندش چاہتا ہے تو اسلام آباد کو امریکی تعلقات، ایران کے ساتھ ہمسائیگی اور اپنی تجارتی پالیسی کے درمیان مشکل توازن قائم کرنا پڑ سکتا ہے۔ فی الحال پاکستان کی جانب سے ان راستوں کو بند کرنے پر کسی حتمی معاہدے کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

ترکیہ ایران کے ساتھ طویل زمینی سرحد اور تجارتی روابط رکھتا ہے۔ راستوں کی بندش دونوں ممالک کی سرحدی تجارت، ٹرانسپورٹ اور علاقائی سپلائی چین کو متاثر کر سکتی ہے۔ پابندیوں سے ایران کی آمدنی اور تجارت متاثر ہو سکتی ہے، مگر مکمل معاشی تنہائی کی کوشش متبادل راستوں، اسمگلنگ اور علاقائی کشیدگی کو بھی بڑھا سکتی ہے۔

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 356