ایران پر حملہ: نیتن یاہو کے لیے سیاسی موقع یا انتخابی بحران؟
تِل ابیب (ویب ڈیسک) میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زمیر نے مبینہ طور پر امریکی حکام کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی اسرائیل کے 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات ملتوی کرا سکتی ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، امریکی فوجی حکام نے ایران پر ممکنہ بڑے حملے کی تیاریوں سے متعلق زمیر کو آگاہ کیا تھا۔ خدشہ ہے کہ امریکی یا اسرائیلی حملے کے جواب میں ایران اسرائیل پر بڑے پیمانے پر میزائل حملے کر سکتا ہے، جس سے انتخابی عمل متاثر ہو گا۔
دوسری جانب اسرائیلی اخبار ’’معاریو‘‘ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ واشنگٹن نے اسرائیل کو ایران پر یک طرفہ حملہ کرنے کی تجویز دی تھی، تاکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے براہِ راست جنگ میں ملوث ہونے کے سیاسی اثرات سے بچ سکیں۔ رپورٹ کے مطابق، بعد میں واشنگٹن نے یہ مطالبہ واپس لے لیا۔ تاہم، امریکی اور اسرائیلی حکام نے اس دعوے کی تردید بھی کی ہے، اس لیے اسے ثابت شدہ پالیسی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
نیتن یاہو اپنی انتخابی مہم میں اسرائیل کے تحفظ اور اپنی قیادت کو نمایاں کر رہے ہیں۔ ایران کے ساتھ نئی جنگ انہیں قومی سلامتی کے محافظ کے طور پر پیش ہونے کا موقع دے سکتی ہے؛ لیکن جنگ کے نتیجے میں جانی نقصان، معاشی دباؤ اور انتخابی تاخیر ان کے لیے سیاسی مشکلات بھی پیدا کر سکتی ہے۔ اسرائیلی انتخابات پہلے ہی 7 اکتوبر 2023 کے حملے اور سکیورٹی ناکامیوں کے گرد گھوم رہے ہیں۔
واشنگٹن اور تل ابیب کے مفادات مکمل طور پر یکساں نہیں۔ ٹرمپ کے لیے امریکی انتخابی کیلنڈر اہم ہے، جبکہ اسرائیل کو ایرانی جوابی کارروائی اور داخلی سیاسی اثرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔




