ریاض ایئرپورٹ پر حملہ، 12 ہلاک اور 309 زخمی
“ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 10 اکتوبر کو ہونے والے حملے نے خطے کی سلامتی کے خدشات مزید بڑھا دیے ہیں۔” سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (GACA) کے مطابق حملے میں 12 افراد ہلاک اور 309 زخمی ہوئے، جن میں بعض کی حالت تشویش ناک ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں چار سعودی شہری، دو بنگلہ دیشی اور امریکا، مصر، اردن، شام، فلسطین اور سوڈان کا ایک ایک شہری شامل تھا۔
“یہ واقعہ محض ایک فضائی حملہ نہیں بلکہ شہری تنصیبات اور بین الاقوامی ہوابازی کی سلامتی کے لیے سنگین چیلنج ہے۔” حملے کے بعد ایئرپورٹ کی سرگرمیاں عارضی طور پر روک دی گئیں، پروازوں کا رخ تبدیل کیا گیا اور حکام نے عمارتوں اور تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ شروع کیا۔ متعدد ممالک کے سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو ایئرپورٹ اور اطراف کے علاقوں سے دور رہنے کا مشورہ دیا۔
“سعودی قیادت میں اتحادی فورسز نے حملے کا الزام یمن کی حوثی تحریک پر عائد کیا، تاہم حوثیوں نے اس تازہ حملے کی فوری طور پر ذمہ داری قبول نہیں کی۔” یہ واقعہ اسی ہفتے ایئرپورٹ پر ہونے والے دیگر حملوں کے بعد پیش آیا، جن میں پہلے بھی ہلاکتیں اور نقصان رپورٹ ہوا تھا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے حملے کی مذمت کی، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا سعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی میں شامل ہونے کے امکان پر غور کر رہا ہے۔
“اس حملے کے اثرات سعودی عرب کی سرحدوں تک محدود نہیں رہ سکتے۔” ریاض ایک اہم فضائی اور تجارتی مرکز ہے؛ ایئرپورٹ کی بندش سے مسافروں، کاروباری سرگرمیوں اور علاقائی رابطوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ مزید فوجی کارروائی یمن کی جنگ کو وسعت دے سکتی ہے اور بحیرۂ احمر و خلیج عدن کے اہم تجارتی راستوں پر دباؤ بڑھا سکتی ہے۔




