سعودی عرب میں فضائی سفر خطرے میں، برطانیہ کی سخت وارننگ
برطانوی دفترِ خارجہ نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے باعث اپنی سفری ہدایات سخت کرتے ہوئے شہریوں کو مدینہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے سوا دیگر تمام سعودی ہوائی اڈوں کے سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے، سوائے ناگزیر حالات کے۔ برطانوی شہریوں کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے بھی دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے، جب تک اسے محفوظ قرار نہ دے دیا جائے۔
یہ فیصلہ سعودی ہوائی اڈوں پر حالیہ حملوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ 10 اکتوبر کو ریاض ایئرپورٹ پر حملے میں 13 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ اگلے روز ایک اور حملے میں ایک شخص ہلاک اور 11 زخمی ہوئے۔ دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بھی حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ حوثی تحریک نے بعض حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
برطانوی ہدایات کے مطابق، سعودی عرب سے روانہ ہونے کے خواہش مند افراد صورتِ حال محفوظ ہونے کی صورت میں زمینی راستے سے بحرین، کویت، قطر، متحدہ عرب امارات یا اردن جا کر وہاں سے پرواز لینے پر غور کر سکتے ہیں۔ تاہم، سرحدی راستوں، داخلے کے ضوابط اور ٹرانسپورٹ کی دستیابی کی پہلے تصدیق ضروری ہے۔
یہ وارننگ محض سفری احتیاط نہیں بلکہ خلیجی خطے میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات اور شہری فضائی نظام پر ان کے اثرات کی علامت ہے۔ ہوائی اڈوں پر حملے پروازوں کی منسوخی، مسافروں کے پھنسنے اور علاقائی فضائی رابطوں میں خلل کا سبب بن سکتے ہیں۔ مدینہ کو استثنا دینے کا مطلب مکمل سلامتی کی ضمانت نہیں؛ مسافروں کو روانگی سے پہلے ایئرلائن اور سعودی حکام کی تازہ ہدایات ضرور دیکھنی چاہییں۔



