سعودی دفاعی معاہدہ عملی مرحلے میں، ایران نے پاکستان کے کردار پر سوال اٹھا دیے
ایران نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے سہ فریقی دفاعی معاہدے پر تنقید تیز کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یمن کے تنازع میں بیرونی مداخلت پورے خطے کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتی ہے۔ ایران انٹرنیشنل کی مریم سینائی کی رپورٹ کے مطابق، معاہدہ 5 اکتوبر کو عملی مرحلے میں داخل ہوا، جس کے بعد پاکستان اور ترکیہ نے سعودی عرب کی معاونت کے لیے اقدامات شروع کیے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سعودی عرب میں دسیوں ہزار پاکستانی فوجیوں کی ممکنہ تعیناتی سے متعلق سوال پر کہا کہ تہران نے بھی یہ افواہ سنی ہے اور امید ہے کہ یہ درست نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے معاملے میں مداخلت کے خطے پر ناپسندیدہ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بھی پڑوسی ممالک پر زور دیا کہ وہ خود انحصاری اور حقیقی برادرانہ تعلقات کو ترجیح دیں۔
ایرانی پارلیمان کے بعض ارکان نے معاہدے کی افادیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کی شرکت حوثی تحریک کی صلاحیتوں کو ختم نہیں کر سکے گی۔ بعض ایرانی حلقوں نے پاکستان کی ثالثی پر بھی اعتراض کیا، کیونکہ اسلام آباد ایک جانب سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کر رہا ہے اور دوسری جانب تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی رابطوں میں کردار ادا کرتا رہا ہے۔
پاکستان کے لیے اصل چیلنج سعودی عرب کی سلامتی سے متعلق اپنی ذمہ داریوں اور ایران کے ساتھ ہمسایہ تعلقات و ثالثی کے کردار میں توازن قائم رکھنا ہے۔ دوسری جانب، سعودی عرب کو دفاعی مدد فراہم کرنا لازماً یمن میں براہِ راست جنگ میں شمولیت کے مترادف نہیں۔




