فیلڈ مارشل عاصم منیر کا تہران مشن, ایران جنگ اور سرحد پار دہشت گردی پر مذاکرات

عاصم منیر کا تہران مشن: ایران جنگ اور سرحد پار دہشت گردی پر مذاکرات کی اہمیت“ فیلڈ مارشل عاصم منیر 20 اکتوبر 2026 کو تہران کا دورہ کرنے والے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق پاکستانی

عاصم منیر کا تہران مشن: ایران جنگ اور سرحد پار دہشت گردی پر مذاکرات کی اہمیت“

فیلڈ مارشل عاصم منیر 20 اکتوبر 2026 کو تہران کا دورہ کرنے والے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق پاکستانی حکام اور ایرانی میڈیا نے اس دورے کی تصدیق کی ہے۔ اس کا بنیادی پس منظر امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع میں کشیدگی کم کرنے، مذاکرات بحال کرنے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں ہیں۔

تاہم پاکستان کے لیے تہران کے ساتھ رابطہ صرف مشرقِ وسطیٰ کی جنگ تک محدود نہیں۔ ایران کے ساتھ تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد پر مسلح گروہوں کی نقل و حرکت، اسمگلنگ اور بلوچستان میں شورش بھی دوطرفہ سکیورٹی تعاون کے اہم موضوعات ہیں۔ پاکستان ماضی میں ایران سے سرحد پار کارروائیوں اور عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر تحفظات ظاہر کرتا رہا ہے، جبکہ جنوری 2024 کے باہمی حملوں نے واضح کیا تھا کہ ناقص رابطہ کاری کس طرح فوری کشیدگی پیدا کر سکتی ہے۔

بلوچستان لبریشن آرمی کے حوالے سے اسلام آباد کو انٹیلی جنس تبادلے، سرحدی نگرانی، مشتبہ نقل و حرکت کی بروقت اطلاع اور مشترکہ تحقیقات جیسے قابلِ عمل اقدامات درکار ہیں۔ تاہم اس دورے کے بارے میں دستیاب رائٹرز رپورٹ یہ تصدیق نہیں کرتی کہ BLA کے مبینہ ایران سے روابط یا سرحد پار دراندازی مخصوص مذاکراتی ایجنڈے میں شامل ہیں؛ اس لیے انہیں طے شدہ موضوعات کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔

افغانستان کا مسئلہ بھی پاکستان کی سلامتی سے براہِ راست جڑا ہے۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ ٹی ٹی پی سمیت مسلح گروہ افغان سرزمین استعمال کرتے ہیں، جبکہ طالبان حکام ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان ایران کے ساتھ علاقائی رابطہ کاری اور سرحدی سکیورٹی پر گفتگو کے ذریعے مشترکہ خطرات کم کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

تزویراتی اعتبار سے پاکستان کو بیک وقت تین محاذوں پر توجہ دینی ہے: ایران اور امریکا کے درمیان سفارت کاری، مغربی سرحد پر دہشت گردی کی روک تھام، اور سعودی عرب سمیت خلیجی شراکت داروں کے ساتھ توازن۔ دورے کی کامیابی کا اصل پیمانہ بیانات نہیں بلکہ کشیدگی میں کمی، انٹیلی جنس تعاون اور سرحدی واقعات کی روک تھام ہوگا۔

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 356