لاہور (ویب ڈیسک) پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچے اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف اور دیگر اعلی حکام سے ملاقاتیں کیں جن کے دوران ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ بند سرحدیں دوبارہ کھول دی گئی ہیں، جبکہ پاکستان کی طرف سے باضابطہ تصدیق نہیں آئی۔
پاکستان فوج کے فیلڈ مارشل عاصم منیر منگل کو وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ ایرانی دارالحکومت تہران پہنچے اور وہاں صدر مسعود پزشکیان، پارلیمانی سپیکر باقر قالیباف اور قومی سلامتی کے سیکریٹری محسن رضائی سے ملاقاتیں کیں، ایرانی سرکاری اور نیم سرکاری خبر رساں اداروں کی رپورٹوں کے مطابق۔
بی بی سی اردو کے مطابق یہ عاصم منیر کا اس سال کا چوتھا ایران دورہ ہے اور ایرانی ذرائع ابلاغ نے ان ملاقاتوں کو بھرپور کوریج دی۔ ایرانی خبر رساں ادارے ‘ارنا’ اور ‘فارس’ نے بتایا کہ ملاقاتوں میں خطے کی صورتحال اور سرحدی معاملات پر بات چیت ہوئی۔
ایرانی میڈیا نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ملاقاتوں کے دوران فیلڈ مارشل نے ‘پانچ روز سے بند ایران سرحد کھولنے کا اعلان’ کیا اور محسن رضائی کے حوالے سے کہا گیا کہ ایران اور پاکستان کی سرحدی مسئلے حل کر دیے گئے ہیں اور ‘آج سے دونوں ممالک کے درمیان تمام سرحدی مقامات دوبارہ کھول دیے گئے’۔
تاہم بی بی سی کے متن کے مطابق پاکستان کے سرکاری حکام یا فوج نے ان دعؤں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ فارس نیوز کے حوالے سے بھی کہا گیا کہ منگل کی شب تک سرحد بدستور بند تھی اور کوئٹہ کی مقامی رپورٹ میں بھی نوٹیفکیشن موصول نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی۔
بی بی سی کا مزید کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی سرحدی بندش کی وجہ سے پاکستان اور ایران کے درمیان اہم تجارتی راستے پانچ روز سے بند ہیں، جس کے نتیجے میں بلوچستان کے راستے تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور سرحد دونوں اطراف سینکڑوں مال بردار کنٹینرز پھنس گئے۔
اس دورے کی اہمیت اس پسِ منظر میں دیکھی جا رہی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور مذاکرات کے متعدد ادوار کے باوجود کوئی حتمی معاہدہ سامنے نہیں آیا۔ بی بی سی کے متن میں وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے سابق بیانات کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ مذاکرات مشکل لیکن جاری رکھے گئے۔
بی بی سی اردو کی رپورٹ میں یہ بھی نوٹ کیا گیا ہے کہ فیلڈ مارشل کے دورے یا سرحدی صورتحال کے حوالے سے پاکستان فوج یا وزارتِ اطلاعات کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان شائع نہیں ہوا۔




