ماسکو ایران کی حمایت میں میدان میں آ گیا

سرگئی لاوروف کے تہران دورے، ایران جنگ میں روسی ثالثی، ماسکو تہران دفاعی تعاون اور آبنائے ہرمز کی کشیدگی کے پاکستان اور خلیجی سلامتی پر اثرات کا تجزیہ۔

ماسکو ایران جنگ میں ثالثی کے لیے سرگرم؛ سفارتی رابطے یا تزویراتی مفادات؟

لاہور (ویب ڈیسک) عالمی میڈیا : روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف 19 اکتوبر 2026 کو تہران پہنچنے والے ہیں، جہاں وہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات میں علاقائی اور عالمی صورتحال پر بات کریں گے۔ عکاظ کی رپورٹ کے مطابق ماسکو کا اعلان کردہ مقصد جنگ کے دوبارہ بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کو روکنا اور امریکا و ایران کے تعطل کا شکار مذاکرات کو آگے بڑھانے میں مدد دینا ہے۔ یہ جنگ فروری میں امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہوئی؛ اپریل کی جنگ بندی اور جون کی مفاہمتی یادداشت کے باوجود آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار ہے۔

روس اور ایران کے تعلقات محض سفارت کاری تک محدود نہیں۔ دونوں ممالک پر مغربی پابندیاں ہیں اور یوکرین جنگ کے بعد ان کے معاشی، دفاعی اور تکنیکی روابط میں اضافہ ہوا ہے۔ رائٹرز کے مطابق دونوں ممالک نے ایک دوسرے کو فوجی مہارت اور سازوسامان بھی فراہم کیا ہے۔ دفاعی تعاون میں ڈرون ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس اور عسکری تجربات کی منتقلی جیسے پہلو زیرِ بحث رہے ہیں، تاہم کسی مخصوص نئے ہتھیار کی فراہمی کو اس دورے کا طے شدہ نتیجہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

پاکستان کے لیے اس پیش رفت کی تین اہم جہتیں ہیں۔ پہلی، آبنائے ہرمز میں عدم استحکام سے تیل کی عالمی قیمتوں، درآمدی اخراجات اور پاکستان کے ادائیگیوں کے توازن پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ معمول کے حالات میں دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی ہائیڈروکاربن ترسیل اس آبی راستے سے گزرتی ہے۔ دوسری، روس کی ایران پر اثراندازی کشیدگی کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن ثالثی کی کامیابی کا انحصار واشنگٹن اور تہران کی آمادگی پر ہوگا۔ تیسری، پاکستان کو ایران کے ساتھ سرحدی تعلقات، سعودی عرب سے دفاعی روابط اور خلیجی معاشی مفادات میں توازن برقرار رکھنا ہوگا۔

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 356