مکہ ڈیفنس پیکٹ میں ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کو فوری دفاعی امداد کا پابند قرار دیا گیا

المکہ ڈیفنس پیکٹ میں ترکی، سعودی عرب اور پاکستان نے طے کیا ہے کہ کسی رکن پر بیرونی عسکری حملے کی صورت میں فوراً امداد فراہم کی جائے گی؛ معاہدے میں 16 دفعات شامل ہیں۔

لاہور (ویب ڈیسک) المکہ ڈیفنس پیکٹ نے ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کو اعلان کیا ہے کہ وہ کسی رکن ملک پر بیرونی عسکری حملے کی صورت میں فوراً امداد فراہم کریں گے، الف الزاہد کے مطابق معاہدے میں 16 دفعات شامل ہیں۔

المکہ ڈیفنس پیکٹ کے متن کے مطابق معاہدے کا بنیادی دائرہ کار یہ ہے کہ اگر بلاواسطہ بیرونی عسکری حملہ کسی رکن ملک پر ہوتا ہے تو دیگر اراکین فوری مدد فراہم کریں گے۔ اس پیکٹ میں کل 16 دفعات شامل ہیں جو مختلف دفاعی اور حفاظتی شعبوں کو کور کرتی ہیں۔

معاہدے کے احکام میں فوجی امداد کی فراہمی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور مشترکہ اسلحہ تیار کرنے کے اہداف شامل ہیں، جس کا مقصد رکن ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون کو مضبوط کرنا بتایا گیا ہے۔

سورس کے مطابق یہ شقیں اراکین کو حملے کی صورت میں یکساں ردعمل کی راہ فراہم کریں گی اور علاقائی سلامتی کے لیے مربوط دفاعی اقدامات کے نفاذ پر زور دیتی ہیں۔

المصدر کی تفصیل میں معاہدے کے 16 آرٹیکلز کا حوالہ دیا گیا ہے مگر صاف کیا گیا کہ یہ شقیں کس طرح اور کن شرائط کے تحت نافذ ہوں گی اس کا تفصیلی اطلاقی فریم ورک اسی دستاویز میں موجود ہوگا۔

المصدر: المیہ الزاہد (الجزیرہ انگلش) کی رپورٹنگ پر مبنی خلاصہ۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2804