کراچی: نومولود بچے میں منکی پاکس کی تصدیق، ہسپتال کے آلات سے وائرس ملا، ہسپتال سیل

کراچی میں نومولود بچے عیسیٰ میں 14 اکتوبر کو منکی پاکس کی تصدیق ہوئی، لیبارٹری نے ہسپتال کی قینچی میں وائرس پایا جس پر ضلعی محکمہ صحت کے اقدام کے بعد ہسپتال کو سیل کر دیا گیا۔

کراچی (سٹاف رپورٹر) کراچی میں ایک نومولود بچے عیسیٰ میں 14 اکتوبر 2026 کو منکی پاکس کی تصدیق ہوئی اور ضلعی صحت حکام نے ہسپتال کے آلات میں وائرس کی موجودگی کی لیبارٹری تصدیق کے بعد اس ہسپتال کو سیل کر دیا ہے۔

محمد وقار کے پہلے بیٹے عیسیٰ کی پیدائش یکم ستمبر 2026 کو ہوئی۔ بی بی سی اردو کے مطابق بچے کو 24 ستمبر کو کراچی کے ابنِ حسن ہسپتال میں ختنہ کروایا گیا۔ ختنہ کے بعد بچے کو بخار اور جلد پر دانے ظاہر ہوئے، جن کے بڑھنے پر خاندان نے اسے امراضِ جلد کے ماہر اور بعد ازاں کورنگی نمبر پانچ کے سرکاری ہسپتال میں دکھایا۔

کورنگی کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اشفاق میمن نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ جب سرویلنس نظام میں یہ کیس درج ہوا تو تحقیقات کی گئیں کہ بچہ کہاں کہاں گیا تھا اور وہ ابنِ حسن ہسپتال پہنچے۔ سندھ انسٹی ٹیوٹ آف انفیکشس ڈیزیزز میں کی گئی جانچ میں 14 اکتوبر 2026 کو عیسیٰ میں منکی پاکس کی تصدیق ہوئی۔

تحقیقات کے دوران ابنِ حسن ہسپتال کے آلات کے نمونے ڈاؤ لیبارٹری بھیجے گئے، جہاں ہسپتال کی قینچی کے نمونے میں منکی پاکس وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔ لیبارٹری نتائج موصول ہونے کے بعد ضلعی محکمہ صحت نے سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کو خط لکھا اور کمیشن نے قانونی کارروائی کرتے ہوئے ہسپتال کو سیل کر دیا۔

سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے ترجمان نے کہا ہے کہ اگر ہسپتال انتظامیہ رجسٹریشن اور دیگر قانونی تقاضے پورے کر لے تو اس کے دوبارہ کھولنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ کمیشن نے یہ بھی کہا کہ طبی غفلت کے معاملے میں متاثرہ خاندان کو تحریری شکایت دینی ہوگی، جس کی بنیاد پر مزید تحقیقات اور ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ متاثرہ والد محمد وقار نے بی بی سی اردو کو کہا کہ وہ ضروری ہونے پر تحقیقات میں اپنا بیان اور گواہی دینے کے لیے تیار ہیں۔

محکمہ صحت سندھ کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال سندھ میں منکی پاکس کے 44 مصدقہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سے 16 کراچی میں رپورٹ ہوئے۔ صوبے میں لیبارٹری سے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 106 بتائی گئی ہے۔ ڈیش بورڈ کے مطابق متاثرین میں 78 مرد اور 28 خواتین شامل ہیں اور عمر کے لحاظ سے 30 سے 39 سال کے گروپ میں سب سے زیادہ 30 کیسز درج ہیں۔

صحت حکام نے کہا ہے کہ منکی پاکس کے روایتی علامات میں بخار، سر درد، جسم میں درد، سوجن اور جلد پر دانے یا چھالے شامل ہیں، اور چھوٹے بچوں، حاملہ خواتین اور کمزور مدافعتی نظام والے افراد میں بیماری شدید ہو سکتی ہے۔ سندھ میں جاری تحقیقات اور ہسپتال معائنہ اس بات کی جانچ کر رہے ہیں کہ آیا طبی عملہ یا صفائی کے طریقہ کار کی خرابیاں کیسز کے پھیلاؤ میں کردار رکھتی ہیں یا نہیں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2742