محمد عباس لارڈز کے اعزازی بورڈ پر پانچ وکٹ، پاکستان کو جیت کے لیے 389 رنز کا ہدف

محمد عباس نے لارڈز پر پانچ وکٹیں لیتے ہوئے اعزازی بورڈ پر جگہ بنالی، مگر پاکستان کو انگلینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں جیت کے لیے 389 رنز درکار ہیں۔

لارڈز — محمد عباس نے اتوار کی صبح انگلینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے چوتھے روز اپنی شاندار پانچ وکٹیں لے کر لارڈز کے اعزازی بورڈ پر جگہ بنا لی، مگر پاکستان کو میچ جیتنے کے لیے 389 رنز کا مشکل ہدف درپیش ہے۔

محمد عباس نے 22 اوورز میں 5-57 کے شاندار اعدادوشمار کے ساتھ انگلینڈ کی دوسری اننگز کو 208 رنز پر محدود کر دیا، جس کے نتیجے میں پاکستان کو مقابلہ جیتنے کے لیے 389 رنز کا ہدف ملا۔

یہ وکٹ بیڑک لارڈز کی چوتھی صبح پر ملی جب میچ میں انگلینڈ نے 177-7 سے دوبارہ آغاز کیا تھا اور عباس نے باریک حرکت والی رفتار والی گیندوں سے وکٹیں حاصل کیں۔ سابقہ روز کے بارش اور کم روشنی کی وجہ سے تیسرا دن مختصر اختتام پذیر ہوا تھا، مگر عباس نے جلد ہی اپنا شمار مکمل کر لیا۔

ڈین لارنس نے بیٹنگ کا حصہ بناتے ہوئے 50 ناٹ آوٹ رنز بنائے، جو لیڈز میں ان کی 51 رنز کی پرفارمنس کے تسلسل کا مظہر تھا، مگر انھیں عباس کی ایک شاندار سیدھی سیمنگ بیٹ سے بولڈ کیا گیا۔ انگلینڈ کی 186-8 ریکارڈ 187-9 تب ہوئی جب ایک تیز رفتار 79 میل فی گھنٹہ (127 کلومیٹر فی گھنٹہ) گیند نے روبنسن کو چوکھٹ کے اندر مارا اور وکٹ کیپر محمد رضوان نے باہر کی ایج سے تیز کیچ پکڑا۔

نمبر 11 جوش ٹونگ نے پہلے اننگز میں ریکارڈ شدہ بہترین 30 ناٹ آوٹ کے بعد محمد علی کی دو متواتر گیندوں پر دو چوکے مارے، مگر اننگز کا خاتمہ غیر متوقع طور پر اس وقت ہوا جب پاکستان کے کپتان بابر اعظم نے کورز سے ایک براہِ راست شاٹ لگا کر سست روی دکھانے والے ٹونگ کو رن آؤٹ کر دیا۔

لارڈز کی تاریخ میں چوتھی اننگز کے بڑے تعاقب کی مثالیں کم ہی کامیاب رہیں؛ تاریخی طور پر یہاں چوتھی اننگز میں جیت کے لیے سب سے زیادہ رنز کا ریکارڈ ویسٹ انڈیز کا 344-1 ہے جو 1984 میں گورڈن گرینج کے ناقابلِ شکست ڈبل سنچری کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔

پاکستان کے لیے صورتحال مشکل نظر آتی ہے، خاص طور پر جب وہ پچھلے ہفتے ہی ہیڈنگلے میں انگلینڈ کے ہاتھوں 171 اور 135 کے مجموعوں سے اور 103 رنز کے فرق سے شکست کھا چکا تھا، اور اس میچ میں لارڈز کی پہلی اننگز بھی 110 رنز پر ختم ہوئی تھی جب اوپنر امام الحق انجری کے باعث بیٹنگ نہ کر سکے۔

اباس کی اس انفرادی کارکردگی نے انہیں لارڈز کے اعزازی ریکارڈ پر جگہ دلا دی، مگر ٹیم کے لیے فتوحات کا راستہ ابھی بھی دشوار اور نایاب ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1515