بی بی سی نیوز برازیل کی حالیہ تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ یوٹیوب پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ فرضی ’’ڈاکٹر‘‘ بزرگ ناظرین کو طبی مشورے دینے اور متعین مصنوعات فروخت کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں، جنہیں مجموعی طور پر قریباً سات کروڑ مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔
ایک مثال میں 82 سالہ سیلی فریرا کی ہے جو یوٹیوب پر ویڈیو دیکھ رہی تھیں جب سکرین پر ایک ڈاکٹر نمودار ہوا اور پھل کھانے کے ذریعے بینائی محفوظ رکھنے کا مشورہ دیا۔ فریرا کے مطابق لیبل کے باوجود وہ سمجھتی رہیں کہ بات ایک حقیقی ڈاکٹر کر رہے ہیں۔
بی بی سی نیوز برازیل اور ایک غیر منافع بخش صحافتی تنظیم ’’کنٹرول زی‘‘ کی تحقیقات میں پرتگالی زبان کے کم از کم 29 ایسے یوٹیوب چینلوں کی نشاندہی کی گئی جہاں اے آئی سے تیار کردہ ڈاکٹروں کی ویڈیو دستیاب تھیں اور یہ ویڈیوز مجموعی طور پر تقریباً سات کروڑ بار دیکھی جا چکی ہیں۔ اسی سلسلے میں کم از کم 50 ایسے ٹیوٹوریل چینل بھی ملے جو بتاتے ہیں کہ کیسے مصنوعی چہرے اور آوازیں بنا کر طبی دعوے پیش کیے جائیں۔
تحقیق کاروں نے ان ویڈیوز پر کیے گئے تقریباً 27 ہزار تبصروں کا جائزہ لیا اور درجنوں ایسے تبصرے ملے جن میں ناظرین، خود کو بزرگ بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اُنہوں نے ویڈیو کے مشوروں پر عمل کیا، بعض نے ادویات بند کر دی یا گھریلو علاج شروع کر دیے۔ ایک 85 سالہ صارف نے دعویٰ کیا کہ اِس نے معدے کی دوا اومیپرازول بند کر کے شکر قندی کھانا شروع کر دیا۔ ایک اور 77 سالہ خاتون نے کہا کہ الزائمر کے حوالے سے مشورے کے بعد وہ تین سال سے ڈاکٹر کے پاس نہ گئیں۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق بعض ویڈیوز میں حقیقی ڈاکٹروں کی تصاویر اور آوازیں اُن کی اجازت کے بغیر استعمال کی گئیں جبکہ دیگر میں مکمل طور پر فرضی اے آئی چہرے اور مصنوعی آوازیں پیش کی گئیں۔ ویڈیوز کا فارمیٹ عام طور پر خوف و ہراس پیدا کرنا اور فوری خطرے کا تاثر دے کر ناظرین کو متوقع حل یا ای بکس اور مصنوعات خریدنے کی طرف راغب کرتا ہے۔
یوٹیوب کی مالک کمپنی گوگل کا موقف ہے کہ پلیٹ فارم کے ضوابط اے آئی سے تیار کردہ مواد پر بھی لاگو ہوتے ہیں اور ایسی طبی غلط معلومات کی اجازت نہیں جو حقیقی دنیا میں سنگین نقصان کا باعث بن سکیں تاہم تحقیق کار خبردار کرتے ہیں کہ بزرگ افراد کو نشانہ بنایا جانا ’’جان لیوا نقصان‘‘ کا باعث بن سکتا ہے اور آن لائن طبی معلومات کے بارے میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
کنٹرول زی اور بی بی سی کی رپورٹیں مشورہ دیتی ہیں کہ ناظرین کو ویڈیوز کے ذریعے پیش کیے جانے والے طبی دعووں کی تصدیق مستند طبی ذرائع یا رجسٹرڈ صحت کے پیشہ وران سے کرنی چاہیے۔




