پمز آتشزدگی رپورٹ میں اصل کہانی سامنے آ گئی

وزیرِ اعظم نے پمز کے نیونیٹل وارڈ میں آتشزدگی کی عبوری رپورٹ کی بنیاد پر 8 اہلکار معطل کر کے فوجداری کارروائی کی منظوری دی؛ رپورٹ میں حفاظتی خامیوں اور تاخیر سے رسپانس کی نشاندہی ہے۔

وزیرِ اعظم کی زیر صدارت ہفتے کے روز لاہور میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں تحقیقاتی کمیٹی نے پمز میں ہونے والی آتشزدگی کی عبوری رپورٹ پیش کی جس میں متعدد سنگین غفلتوں اور حفاظتی خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق واقعے کے وقت نیونیٹل وارڈ میں 15 نومولود بچے موجود تھے اور آگ لگنے کے بعد پورا وارڈ محض دو منٹ میں جل کر خراب ہو گیا۔ اسی دوران ایک نرس نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر ایک بچے کو بچایا۔

بیان میں کہا گیا کہ آگ لگنے کے چھ منٹ بعد ایمرجنسی سروسز کو کال گئی جبکہ پہلا رسپانس 15 منٹ بعد پہنچا۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ نیونیٹل وارڈ میں فائر الارم یا سپرنکلر سسٹم موجود نہیں تھا اور وارڈ میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے قوائد کی خلاف ورزی پائی گئی۔ کمیٹی نے بتایا کہ ہنگامی صورتِحال سے نبٹنے کے لئے تفصیلی ایس او پیز بھی موجود نہیں تھے، صرف 13 ایس او پیز میں سے دو ذیلی سیکشنوں میں آگ یا ہنگامی صورتحال کا ذکر تھا جبکہ سپروائزری سٹاف موقع پر تعینات ہی نہیں تھا۔

اجلاس میں وارڈ کی سی سی ٹی وی ویڈیو بھی دکھائی گئی جس میں واقعہ تقریباً دو منٹ پر محیط دکھائی دیتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ صرف ایک ماہ قبل جولائی میں ہسپتال کے نرسنگ ہاسٹل میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا، مگر حفاظتی اقدامات بہتر نہیں کیے گئے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1519