اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) پاکستان کی نئی آٹو پالیسی میں کاروں اور سپیئر پارٹس کی برآمدات بڑھانے، الیکٹرک گاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور قیمتیں کم کرنے کے متعدد مالیاتی اقدامات شامل ہیں۔ نئی پالیسی کے مطابق کاروں کی برآمدات کے جو اہداف طے کیے گئے ہیں اُن کے مطابق رواں مالی سال کے دوران کاروں کی برآمدات چار فیصد جبکہ 2030-31ء تک اِسے 20 فیصد تک بڑھایا جائے گا۔ نئی پالیسی کے تحت آٹو پارٹس کی برآمدات کا ہدف پانچ فیصد سے بڑھا کر 15 فئصد تک کیا جائے گا۔
نئی آٹو پالیسی کے مسودے کا سب سے اہم نکتہ برآمداتی اہداف میں فوری اور مرحلہ وار اضافہ ہے۔ پالیسی کا مقصد مقامی آٹو پارٹس مینوفیکچررز کو عالمی سپلائی چینز سے منسلک کرنا ہے اور اِس کے لیے ’’برآمد کنندگان کے لیے ڈیوٹی اور ٹیکس معافی‘‘ سکیم متعارف کرانے اور ’’آٹو پارٹس برآمداتی کونسل‘‘ قائم کی جائے گی۔ اِن اقدامات سے برآمدات میں اضافے اور مقامی صنعت کی عالمی بازاروں تک رسائی بہتر بنانے کی امید ظاہر کی گئی ہے۔
مسودے میں صارفین کے حقوق کے لیے نئے قواعد بھی شامل کیے گئے ہیں جن کے مطابق گاڑی بُک کروانے کے وقت خریدار کو ڈیلیوری تاریخ دینا لازم قرار دیا گیا ہے اور اگر بُکنگ کے بعد قیمت بڑھتی ہے تو مینوفیکچرر ذمہ دار ہو گا۔
الیکٹرک گاڑیوں (ای وی) کو فروغ دینے کے لیے کئی مالی مراعات تجویز کی گئی ہیں جن میں وفاقی ایکسائز ڈیوٹی، کیپیٹل ویلیو ٹیکس اور وِدہولڈنگ ٹیکس سے استثنیٰ کے علاوہ الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ سٹیشن کے ساز و سامان پر کسٹم ڈیوٹی محض ایک فیصد رکھی جانے کی سفارش کی گئی ہے۔ پالیسی ای وی کی فنانسنگ کی حد کو ایک کروڑ روپے تک بڑھانے اور قرض کی واپسی کی مدت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کرنے کی تجویز بھی پیش کرتی ہے۔
مزید برآں، رواں پانچ سال کے دوران روایتی گاڑیوں پر کسٹمز ڈیوٹی میں 80 فیصد تک کمی کی منصوبہ بندی شامل ہے تاکہ گاڑیاں سستی ہوں اور ایندھن موثر، ماحول دوست آپشنوں کو فروغ ملے۔
دستاویزی مسودہ نشاندہی کرتا ہے کہ یہ تجاویز حتمی منظوری سے قبل بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ آن لائن مشاورت اور آنے والے اقتصادی جائزے کے دوران زیر بحث آئیں گی۔ مسودے میں پیداواری اہداف پورا نہ کرنے پر جرمانے اور اہداف حاصل کرنے پر مراعات دینے کے اصول بھی وضع کیے گئے ہیں۔




