پاکستان نے ایڈگباسٹن میں انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ کی پہلی پوزیشن پر صرف 133 رنز بنائے اور 33.5 اوورز میں تمام آؤٹ ہو گئے، جس پر نائب کپتان ساؤد شکیل نے بٹنگ کے مسلسل مسئلے پر مایوسی کا اظہار کیا۔
ایڈگباسٹن کے گراؤنڈ پر بادلوں سے گھرا ہوا موسم تھا جب پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم، ٹیم کی سٹرائیک رینج صرف 133 رنز تک محدود رہی اور تمام کھلاڑی 33.5 اوورز کے اندر ہی وکٹیں کھا گئے۔ اس کم اسکور پر ساؤد شکیل، جو نائب کپتان اور ٹیم کے سب سے زیادہ اسکور کرنے والے کھلاڑی 43 رنز بنائے، نے میڈیا سے کہا کہ “ہم ایک ہی غلطی بار بار دہرا رہے ہیں” اور اس ناکامی پر مایوسی کا اظہار کیا۔
انگلینڈ کے رفتار کے حملے نے پاکستانی بیٹنگ کو مسلسل دباؤ میں رکھا۔ اولی رابرٹسن نے 3 وکٹیں لے کر 15 رن دی، جوفر آرچر نے 3 وکٹیں 25 رن پر اور جوش ٹونگ نے 4 وکٹیں 42 رن پر حاصل کیں۔ شکیل کے بعد سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑیوں میں ساؤد نے 47 گیندوں پر 43 رنز بنائے۔
پاکستانی ٹیم کے اکیلے ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے 21 سالہ رازا اللہ نے بھی اپنی پہلی میچ میں 2 وکٹیں 42 رن پر حاصل کیں، جن میں جو روٹ اور ایمیلو گی کی وکٹیں شامل ہیں۔ شکیل نے کہا کہ ایسے ایکسپریس فاسٹ بولرز کی خاموش صلاحیت ٹیم کے لیے قیمتی ہے اور انہیں بہتر منصوبہ بندی اور کوچنگ کی ضرورت ہے۔
انگلینڈ نے اپنی دوسری اننگز میں 156-4 تک رسائی حاصل کی اور اس وقت کے اختتام پر 23 رن کی برتری کے ساتھ سیشن ختم ہوا۔ ٹیم کے کپتان نے کہا کہ اگر ابتدائی شراکتیں مضبوط ہوتی تو پچ بیٹنگ کے لیے زیادہ موزوں ہو سکتی تھی۔
اس نتیجے کے بعد اگلے دن کھیل جاری رہنے کی توقع ہے، جہاں انگلینڈ کو 23 رن کی برتری اور چھ وکٹیں مل چکی ہیں۔ پاکستان کو فوری طور پر وکٹیں حاصل کر کے میچ کے توازن کو بدلنے کی ضرورت ہوگی۔
شکیل نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیم کے بزرگ کھلاڑیوں اور کوچنگ سٹاف کی ذمہ داری ہے کہ نوجوان فاسٹ بولر رازا اللہ جیسے کھلاڑیوں کو مناسب منصوبہ بندی اور تربیت فراہم کی جائے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ٹیم کے اندر خود اعتمادی کے فقدان کے خلاف کہا کہ “اگر آپ کو اس سطح پر کھیلنے کا حوصلہ نہیں تو آپ کو یہاں کھیلنے کا حق نہیں”۔




