اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) سینیٹ کی سائنس اور ٹیکنالوجی کی سٹینڈنگ کمیٹی نے ناقص کاسمیٹکس کی پیداوار اور درآمد پر سات سال تک کی قید اور دس ملین یعنی ایک کروڑ روپے تک جرمانے کا نیا قانون منظور کر لیا۔ اس بل میں درآمدی کاسمیٹکس پر ڈیوٹی عائد کرنے کے علاوہ اور ایک خودمختار ادارہ بھی قائم کیا جائے گا جو درآمدی کاسمیٹکس پر نظر رکھے گا۔
سٹینڈنگ کمیٹی نے 10 ستمبر 2026ء کو اجلاس کے دوران جنرل کاسمیٹکس بل 2026ء پر تبادلہ خیال کے بعد متفقہ طور پر خودمختار ادارہ قائم کرنےکی منظوری دے دی گئی جبکہ ناقص کاسمیٹکس کی پیداوار اور درآمد پر سخت سزائیں متعین کی جائیں گی۔ وفاقی وزیر رضا حیات حراج کا کہنا تھا کہ ملک میں کاسمیٹکس کے شعبے پر کوئی حکومتی کنٹرول موجود نہیں جس کی وجہ سے مرکری والی بیوٹی کریموں کی وجہ سے جِلد کے کینسر کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ کوئی ضابطہ نہ ہونے کی وجہ سے ملکی برآمدات بھی متاثر ہو رہی ہیں۔
نئے مسودے کے تحت ناقص یا غیر معیار کے کاسمیٹکس تیار یا درآمد کرنے والوں کو سات سال تک کی قید اور دس ملین روپے تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ درآمدی کاسمیٹکس پر مخصوص ڈیوٹی لگائی جائے گی تاکہ غیر معیار کی مصنوعات کی آمد کو روکنے میں مدد ملے۔ اس قانون کے تحت ایک خودمختار ادارہ قائم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے جو ناقص کاسمیٹکس کی پیداوار اور فروخت پر نظر رکھے گا۔




