بابر اعظم کے بجائے شان مسعود میڈیا کا سامنا کرے، سابق کپتان

سابق کپتان راشد لطیف نے پی سی بی کو مشورہ دیا کہ انگلینڈ ٹور میں بابراعظم کو انگریزی میڈیا کی نمائش سے دور رکھا جائے اور میڈیا کے لیے شان مسعود، امام الحق یا محمد عباس کو آگے بھیجا جائے۔

سابق قومی کپتان راشد لطیف نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے کہا ہے کہ انگلینڈ کے خلاف آئندہ تین ٹیسٹ میچز کی سیریز میں بابراعظم کو انگریزی میڈیا کی نمائش سے محدود رکھا جائے، اور میڈیا ڈیوٹیز کے لیے سابق کپتان شان مسعود کو ترجیح دی جائے۔ سیریز کا آغاز 19 اگست سے ہیڈنگلے، لیڈز میں ہوگا۔

سابق قومی وکٹ کیپر بیٹر راشد لطیف نے ایک ٹاک شوز میں پی سی بی کو مشورہ دیا کہ انگلینڈ کے دورے کے دوران بابراعظم کی میڈیا مصروفیات محدود کی جائیں کیونکہ دورۂ انگلینڈ سخت اور میزبان میڈیا کی توجہ عموماً زیادہ ہوتی ہے۔

راشد نے کہا کہ برطانیہ کا دورہ مشکل ہوتا ہے، اِس کا میڈیا عموماً مہمان ٹیموں کے لیےغیر ضروری کہانیاں گھڑتا ہے، اِس وجہ سے ٹیم مینجمنٹ کو محتاط رہنا چاہیے۔۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ ٹیم کے کپتان بابراعظم تجربہ کار کھلاڑی ہیں مگر اسی وجہ سے انہیں غیرضروری میڈیا دباؤ سے بچانا بہتر ہوگا۔

راشد لطیف نے شان مسعود کو اس لیے موزوں قرار دیا، وہ برطانیہ میں کھیلتے رہے ہیں اور برطانوی میڈیا کے ساتھ بات چیت کرنا جانتے ہیں۔ انہوں نے اس کے علاوہ امام الحق اور محمد عباس کو بھی میڈیا نمائندہ کھلاڑیوں کے طور پر پیش کیا جنہیں مواقع دیئے جا سکتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان ٹیم پہلے ہی انگلینڈ پہنچ چکی ہے، اور یہ دورہ ملک کا 2020 کے بعد انگلینڈ میں پہلا ٹیسٹ مشن ہے، جو ICC World Test Championship (WTC) 2025-27 کے تحت کھیلا جائے گا۔

سیریز کا شیڈول یوں ہے: پہلا ٹیسٹ ہیڈنگلے، لیڈز میں 19 سے 23 اگست، دوسرا ٹیسٹ لارڈز میں 27 سے 31 اگست، جبکہ تیسرا اور آخری ٹیسٹ ایڈگ باسٹن، برمنگھم میں 9 سے 13 ستمبر تک ہوگا۔

پاکستان نے حال ہی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف دو میچوں کی ٹیسٹ سیریز 1-1 برابر کی تھی، جس میں ٹیم نے جنوبی افریقہ کے بعد اپنا پہلا دورہ جاتی ٹیسٹ فتح جولائی 2023 کے بعد نوٹ کیا، جس سے انگلینڈ کے دورے سے پہلے حوصلہ بڑھا ہے۔

تیاریوں کے حصے کے طور پر پاکستان 12 سے 15 اگست تک ایک چار روزہ وارم اپ میچ بھی کھیلے گا جس میں وہ ایک سلیکٹ الیون کے خلاف میدان میں اترے گا۔

راشد لطیف خود قومی ٹیم کے ساتھ انگلینڈ 1992، 1996 اور 2001 میں ٹور کر چکے ہیں، اور اپنے تجربے کی بنیاد پر میڈیا پالیسی کے بارے میں مشورے دے رہے ہیں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1516