پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ نے حکمِ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان افریدی پر عمل کرتے ہوئے بالاکوٹ میں 110 بستروں پر مشتمل کیٹگری‑C اسپتال مکمل کر کے آپریشنل کر دیا، منصوبے کی لاگت Rs. 924.5 ملین رکھی گئی ہے اور یہ مرکز مقامی رہائشیوں اور کاغان و ناران وادیوں کے سیاحوں کو طبی اور ایمرجنسی خدمات فراہم کرے گا۔
بالاکوٹ میں نئی طبی سہولت کی تکمیل اور آپریشنل ہونے کی تصدیق پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ نے کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ متعلقہ محکمے کے تعاون سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان افریدی کی ہدایت پر پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا اور اس پر Rs. 924.5 ملین لاگت آئی۔
اس 110 بستروں پر مشتمل کیٹگری‑C اسپتال میں جنرل سرجری، جنرل میڈیسن، گائناکالوجی و اوبسٹیٹرکس، آئ اوپتھالمالوجی (آنکھوں)، ایئر، نوز اینڈ تھروٹ (ENT)، آرتھوپیڈکس، ٹراما اینڈ ایمرجنسی سروسز، لیبر روم، انٹینسیو کیئر یونٹ (ICU) اور ڈینٹل سروسز شامل ہیں۔
بالاکوٹ کو کاغان اور ناران وادیوں کے داخلی دروازے کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور نئی طبی سہولت سال بھر یہاں کے مقامی باشندوں کے ساتھ ساتھ ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو بھی ہنگامی اور معمولی طبی علاج کی سہولت فراہم کرے گی۔ مقامی سطح پر ہی دستیاب خدمات میں اضافہ سے اضلاع ہیڈکوارٹرز ہسپتال مانسہرہ اور دیگر بڑے طبی اداروں پر پڑنے والا بوجھ کم ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق اس اسپتال کی بنیاد رکھی جانے اور مکمل ہونے کا مقصد خطے میں صحت کی بہتر رسائی، ہنگامی طبی امداد کی فوری دستیابی اور سیاحتی موسم کے دوران ممکنہ طبی بحرانوں کا مؤثر جواب دینا ہے۔ منصوبے کی تکمیل سے مریضوں کے لیے دور دراز علاقوں میں سفر کم ہوگا اور بروقت علاج ممکن ہوگا۔
حکومتِ صوبہ خیبر پختونخوا کی جانب سے مقامی صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے اقدامات کے سلسلے میں یہ منصوبہ اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ مستقبل میں اس سہولت کے آپریشن اور عملے کے حوالے سے مزید تفصیلات اور سروسز کے اوقات سرکاری نوٹس یا متعلقہ محکمہ کی جانب سے جاری کیے جائیں گے۔




